فلسطینی مزاحمتی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے سیاسی شعبے کے نائب صدر ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے قاہرہ میں مصر کی منظم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ”آزادی و انصاف” کے سربراہ ڈاکٹر محمد مرسی سے ملاقات کی ہے۔
اس ملاقات میں حماس رہ نما نے اخوان المسلمون کی قومی اسمبلی اور سینٹ کے انتخابات میں بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی پر انہیں مبارک باد پیش کی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ڈاکٹر محمد مرسی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے مصر کے مسئلہ فلسطین کےبارے میں کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مصر میں آنے والے حالیہ انقلاب نے مسئلہ فلسطین کو ایک مرتبہ پھر سے عالمی فورمز پرزندہ کیا ہے۔
عرب بہاریہ سے مسئلہ فلسطین ابھر کر سامنے آ گیا ہے، جس کے بعد فلسطینیوں کو بھی اپنی آزادی کی منزل قریب تر لگ رہی ہے۔
اس موقع پر اخوان المسلمون کی سیاسی پارٹی”آزادی و انصاف” کے سربراہ ڈاکٹر محمد مرسی نے کہا کہ "مصری انقلاب بے مسئلہ فلسطین پر خصوصی توجہ مرکوز کیے رکھی۔ مصری عوام کو فلسطینیوں پر اسرائیل کے مظالم بالخصوص غزہ کی پٹی پر مسلط معاشی ناکہ بندی پر انہیں گہرا دکھ ہے۔ وہ فلسطینیوں کو دشمن کے مظالم سے نجات دلانے کے لیے مساعی جاری رکھیں گے”۔
ڈاکٹر محمد مرسی کہہ رہے تھے کہ سابق مصری حکومت نے اسرائیل کے ساتھ مل کر فلسطینیوں پر مظالم ڈھائے۔ سابق حکومت فلسطینیوں کے حقوق کے خلاف کام کرتی رہی، لیکن انقلاب کے بعد ایسا نہیں ہوگا۔ انہوں نے فلسطینی سیاسی جماعتوں حماس اور الفتح کے درمیان مفاہمت کے سمجھوتے پر فلسطینی قوم کو مبارک باد دی۔

