فلسطین میں قابض یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر حملوں پر فلسطین بھرمیں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں حکمراں جماعت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کی حکومت کےترجمان طاہرنونو نے کہا ہے کہ
انتہا پسند یہودی اور قابض صہیونی حکومت سابق سفاک وزیراعظم ارئیل شیرون کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قبلہ اول پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی حکومت کے ترجمان نے اسرائیلی حکمران جماعت”لیکوڈ” کی جانب سے پرسوں اتوار کو مسجد اقصیٰ پر حملے کی دھمکی قبلہ اول کےخلاف اسرائیل کے اعلان جنگ کے مترادف ہے۔
ترجمان نے خبردار کیا کہ لیکوڈ پارٹی کے شرپسندوں کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر حملہ سنگین نتائج مرتب کرے۔ حملے کے تمام ترخطرناک نتائج کی ذمہ داری صہیونی حکومت پرعائد ہو گی۔ انہوں نے عرب ممالک اور عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ قبلہ اول کےحوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوریں کریں اور صہیونیوں کو مقدس مقام پر یلغار کی سازشوں سے باز رکھیں۔
قبل ازیں مسجد اقصیٰ کی تعمیرومرمت کی ذمہ داری تنظیم اقصیٰ فاؤنڈیشن نے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل کی شدت پسند حکمراں جماعت لیکوڈ کے ارکان نے مسجد اقصیٰ میں داخلے کی دھمکی دی ہے۔ لیکوڈ کا کہنا ہے کہ اس کے ارکان مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر اس کی جگہ میں مذموم ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا جائزہ لیں گے۔
خیال رہے کہ یہودی مسجد اقصٰی کی جگہ قدیم ایک خیالی ہیکل سلیمانی کی تعمیرکا دعوٰی کرتے ہیں ۔یہودیوں کا کہنا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کو شہید کر کے اس کی جگہ یہ مندر تعمیر کریں گے جو کسی دور میں یہاں ہیکل سلیمانی کے نام سے قائم رہ چکا ہے۔ مورخین کا کہنا ہےکہ یہودیوں کا مسجد اقصیٰ کی جگہ کسی بھی یہودی عبادت گاہ کا کوئی تصور نہیں۔ اسرائیل مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ سے محروم کرنے کے لیے اس کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا ارادہ رکھتے ہیں۔

