عرب لیگ نے ویٹی کن کو اسرائیل کے ساتھ کسی بھی ایسے معاہدے سے باز رہنے کا کہا ہے جس میں فلسطینیوں کی حق تلفی ہوتی ہو۔ عرب لیگ نےاسرائیل کے ساتھ کسی معاہدے کے وقت تمام عالمی اور بین الاقوامی قوانین کا دھیان رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرب لیگ میں شعبہ فلسطینی امور کے سیکرٹری جنرل محمد صبیح نے ویٹی کن اور اسرائیل کے مابین جلد سنہ 1967ء سے اسرائیلی زیر تسلط مغربی کنارے میں موجود چرچ اور کیتھولک املاک کی قانونی حیثیت کے حوالے سے معاہدے طے پانے کی خبروں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ویٹی کن کو خبردار کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق مغربی کنارے کو مقبوضہ علاقہ تسلیم کرے۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اس خطے میں موجود کیتھولک چرچوں کی املاک کے متعلق کوئی معاہدہ اسرائیل کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح مشرقی مقبوضہ بیت المقدس کی مسیحی املاک کے متعلق کوئی بھی معاہدہ اسرائیل کے ساتھ کیا جانا اقوام متحدہ اورعالمی قوانین کی خلاف ورزی شمار ہو گا۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے 1948ء میں فلسطین کے اٹہتر فیصد حصے پر قبضہ کے بعد پانچ جون 1967ء کو مغربی کنارے اور غزہ اور مشرقی القدس پر بھی حملہ کر دیا تھا۔ بعد ازاں 1980ء میں اسرائیل نے ایک قانون کے تحت مشرقی اور مغربی متحدہ القدس کو صہیونی ریاست کا دارالخلافہ قرار دے دیا تھا، تاہم اقوام متحدہ نے مشرقی القدس اور مغربی کنارے کو مقبوضہ علاقہ قرار دیا تھا۔

