اسرائیل کی ایک مرکزی عدالت نے محروس فلسطینی اراکین پارلیمنٹ سابق وزیرخالد ابوعرفہ اور محمد طوطح کےخلاف جاری مقدمہ کی سماعت آئندہ بدھ تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔ دوسری جانب دونوں محروسین کےخلاف صہیونی حکام ایک نئی فرد جرم تیار کر رہے ہیں،
آئندہ پیشی کےموقع پر نئی فرد جرم بھی عدالت میں پیش کی جائے گی۔
خیال رہے کہ فلسطینی اراکین قانون ساز کونسل محمد طوطح اور خالد ابوعرفہ کو اسرائیل نےبیت المقدس سے ایک ماہ قبل اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ انسانی حقوق کی تنظیم ریڈ کراس کے دفتر کے باہر اپنی بیت المقدس سے بے دخلی کے فیصلے کےخلاف ایک سال سے دھرنا دیے ہوئے تھے۔
دونوں اراکین قانون ساز کونسل نے سنہ 2006ء کے فلسطینی پارلیمانی انتخابات کے دوران مذہبی تنظیم اور اسرائیل مخالف حماس کے سیاسی ونگ "اصلاح وتبدیلی” کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا اور وہ بیت المقدس سے اراکین اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد اسرائیلی حکام نے انہیں حماس کے ایجنٹ قرار دے کر شہر سے بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا اور صہیونی عدالت سے اس کی منظوری حاصل کی گئی تھی۔ تاہم دونوں اراکین نے اسرائیلی عدالت کےفیصلے کے خلاف ریڈ کراس کے دفترکے باہر ایک احتجاجی کیمپ لگایا۔ گذشتہ ماہ اسرائیلی فوج نے ان کا احتجاجی کیمپ اکھاڑ پھینکا اور انہیں گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا۔ اب ان کےخلاف مقدمہ چل رہا ہے۔ مقدمہ کی کارروائی کے دوران ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے عدالت کے شہربدری کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیت المقدس میں غیرقانونی اقامت اختیار کیے رکھی ہے۔
حالیہ سماعتوں نے دوران اسرائیلی پراسیکیوشن کی جانب سے صہیونی عدالت کو بتایا گیا کہ خالد ابوعرفہ اور محمد طوطح نے نہ صرف بیت المقدس سے بے دخلی کے عدالتی حکم نامےکی خلاف ورزی کی بلکہ ریڈ کراس کے دفترکے باہر احتجاجی کیمپ لگا کر حماس کے ہاں اپنی سرگرمیوں کا موقع فراہم کیا گیا۔ اس احتجاجی کیمپ میں حماس کے اراکین کی آمدورفت رہتی تھی جو اسرائیل کے لیے کسی بڑے خطرے سے کم نہیں تھے۔ مقدمہ کی سماعت آئندہ بدھ تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

