فلسطینی ذرائع نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا ہے کہ کل اتوار کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں صدر محمود عباس اور اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کےسیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل کے درمیان مذاکرات میں نئی قومی عبوری حکومت کے سربراہ کے لیے صدر محمود عباس کے نام پر اتفاق کیا گیا ہے ۔
محمود عباس صدر کے ساتھ ساتھ نگراں وزیراعظم کی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دوحہ میں قطری حکومت کی میزبانی میں خالد مشعل ۔ محمود عباس ملاقات نہایت خوشگوارماحول میں ہوئی۔ دونوں پارٹی سربراہان نے خوشگوارموڈ میں طویل مذاکرات کیے۔ بات چیت میں فلسطین میں قومی مصالحتی فارمولے کو عملی شکل دینے، قومی حکومت کے قیام، الیکشن کمیشن، نئے صدارتی، پارلیمانی انتخابات تنظیم آزادی فلسطین کی تشکیل نو پر بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر دونوں رہ نماؤں میں یہ طے پایا کہ صدر محمود عباس ہی عبوری عرصے میں وزیراعظم کا اضافی چارج سنبھالیں گے، کیونکہ آئین اس کی اجازت دیتا ہے۔مذاکرات میں سربراہ حکومت کے نام پراتفاق کیا گیا ہے تاہم عبوری حکومت میں شامل وزراء کے ناموں کا تعین نہیں کیا گیا۔
قبل ازیں حماس کے سیاسی شعبے کے رکن عزت رشق نے ایک بیان میں کہا تھا کہ خالد مشعل اور محمود عباس کے درمیان ہونےوالی ملاقات میں سیاسی قیدیوں کےمعاملے پر بھی تفصیل سے تبادلہ خیال ہوا ہے۔ حماس کے لیڈر نے صدر محمود عباس سے شکوہ کیا ہے کہ مغربی کنارے میں فتح کی حکومت کے زیرکنٹرول علاقوں میں حماس اور دیگرسیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
فلسطینی سیاسی جماعتوں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” اور الفتح کے درمیان مفاہمتی عمل آگے بڑھانے کے لیے دونوں جماعتوں کی سربراہ ملاقات اتوار کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوئی۔ حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل اور صدر محمود عباس کے درمیان ہوئی ملاقات میں قومی حکومت کی تشکیل اور گذشتہ ماہ قاہرہ میں ہوئے مذاکرات کو آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے رہنما خالد مشعل نے دوحہ میں صدر محمود عباس سے ملاقات سے قبل امیر قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی اور وزیراعظم حمد بن جاسم آل ثانی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں نے فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے اور فلسطین کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
خالد مشعل اور محمود عباس کے درمیان ہوئی ملاقات سے قبل دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادت نے بھی مذاکرات کیے۔ ان مذاکرات میں حماس کے سیاسی شعبے کے ارکان سامی خاطر اور محمد نصر جبکہ فتح کے عزام احمد ،صائب عریقات اور قطر میں فلسطینی سفیر منیر غنام شامل تھے۔
قبل ازیں حماس کے سیاسی شعبے کے نائب صدرڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے کہا تھا کہ دوحہ میں مذاکرات فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ اور فتح کے لیڈر محمود عباس کی تجویز پر ہونے جا رہے ہیں۔
خالد مشعل اور محمود عباس کے درمیان ہوئی بات چیت میں فلسطینیوں کے مابین مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے، سیاسی قیدیوں کی رہائی، قومی حکومت کی تشکیل، صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے لیے شیڈول کے اعلان اور ایک ماہ پیشتر قاہرہ میں ہونے والے مذکرات کےطے شدہ نکات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

