فلسطینی وزیراعظم اور اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے رہ نما اسماعیل ھنیہ نےکہا ہے کہ وہ تنظیم کے سیاسی شعبے کے موجودہ سربراہ خالد مشعل کو دوبارہ اس عہدے پر فائز رکھے جانے کےحامی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حماس کے خلیجی ممالک اور ایران کےساتھ متوازی تعلقات ہیں اور یہ تعلقات مستقبل میں مزید مضبوط اور مستحکم ہوں گے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسماعیل ھنیہ نے ان خیالات کا اظہار اپنے دورہ قطر کے دوران دوحہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حماس کے شام میں موجود بیرون ملک ہیڈ کواٹرکی قطر یا کسی دوسرے ملک میں منتقلی کی خبریں صرف میڈیا میں گردش کرتی ہیں حماس کی قیادت نے اس موضوع پر کوئی بات چیت نہیں کی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا حماس کے ایران کے ساتھ تعلقات خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو متاثر نہیں کریں گےاسماعیل ھنئہ نے کہا کہ” حماس کے ایران اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات ہیں۔ کسی ایک فریق سے اچھا تعلق دوسرے کے ساتھ تعلق کو متاثرنہیں کرتا۔ حماس مستقبل میں ایران اور جی سی سی ممالک کےساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حماس کو فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے عرب اور تمام عالم اسلام کےممالک سے یکساں تعاون درکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حماس کسی عرب یا اسلامی ملک کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتی کیونکہ ایسا کرنے سے فلسطینیوں کے حقوق کا مقدمہ لڑنےمیں مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ادھر دوسری جانب عرب خبررساں ایجنسی”قدس پریس” نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سےبتایا ہےکہ حال ہی میں حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے ایک وفد نےخالد مشعل سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں القسام کی قیادت نے خالد مشعل پر اپنےاعتماد کا اظہار کیا اور ساتھ ہی خالد مشعل پر زور دیا کہ وہ آئندہ کی مدت کے لیے حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ نہ بننے کا اعلان واپس لیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ القسام بریگیڈ کے رکن احمد الجعبری کی قیادت میں ایک سرکردہ وفد نےگذشتہ ماہ خالد مشعل سے ملاقات کی، جس میں القسام بریگیڈ نے ان پر زور دیا کہ وہ تنظیم کے سیاسی شعبے کی سربراہی سے دستبرداری کا فیصلہ واپس لیں۔
خیال رہے کہ دو ہفتے قبل حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے اعلان کیا تھا کہ وہ آئندہ کے انتخابات میں حماس کے سیاسی شعبے کی سربراہی نہیں لیں گے اور یہ عہدہ جماعت کے کسی دوسرے لیڈر کو سونپیں گے۔ خالد مشعل سنہ 2004ء میں سابق لیڈر عبدالعزیزرنتیسی کی شہادت کے بعد سے حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ چلے آ رہے ہیں۔

