اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی زیرملکیت اراضی ہتھیانے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بیت لحم کے متعدد باسیوں کو کل 431ایکڑ اراضی خالی کرنے کے احکامات صادر کر دیے ہیں۔
اس اراضی کو یہودی آبادیوں کو نکاسی آب کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
بیت لحم کے گاؤں نحالین کی دیہی کونسل کے سربراہ اسامہ شکارنہ نے بتایا کہ اس علاقے کے متعدد افراد کی زرعی اراضی پر قبضے کے آرڈر جاری کر دیے گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے زیر انتظام نام نہاد سول ایڈمنسٹریشن نے چلغوزوں اور زیتون کے درختوں سے آباد 431 ایکڑ اراضی کو خالی کرنے کے نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ یہ اراضی یہودی بستی ’’نتسار علیت‘‘ کے سامنے واقع ہے۔
شکارنہ نے بتایا کہ نحالین گاؤں کے متعدد خاندان انظالمانہ صہیونی احکامات کی زد میں آئیں گے جن میں حسن موسی غیاظہ، خلیل موسین جاجرہ، محمد محمود غیاظہ، عبد الرحمن شعبان شکارنہ اور دیگر شامل ہیں۔

