فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کی حکومت نے قومی مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے کے لیے مخصوص مشترکہ مفاہمتی کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے وہ مفاہمت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والے چہروں کو بے نقاب کرے۔
فلسطینی وزارت داخلہ کے ترجمان ایھاب غصین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ "مفاہمتی بات چیت کرنے والی کمیٹی کو چاہیے کہ وہ ان تمام رکاوٹوں کو دور کرے جو شروع سے مفاہمت کی راہ میں رکاوٹیں بنے ہوئے ہیں۔ اگر مفاہمت کی راہ میں کوئی سیاسی شخصیت رکاوٹ ہے تو اسے بھی بے نقاب کیا جائے”۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے مابین مفاہمت کے لیے بات چیت کئی ماہ سے جاری ہے، اس میں کسی قسم کا تعطل نہیں آنا چاہیے۔ آج تک مفاہمت کے عمل میں تعطل کی بنیادی وجہ بعض عناصر کی مداخلت اور مفاہمت مخالف اقدامات ہیں۔ فلسطینی صدر محمود عباس کیجماعت کو چاہیے کہ وہ مفاہمت کے سلسلے میں فراخ دلی اور لچک کا مظاہرہ کرے۔
ایھاب غصین نے فلسطینی سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ مفاہمت کے جن امور پر اتفاق رائے ہو چکا ہے ان پرعمل درآمد کے لیے فوری سفارشات مرتب کریں تاکہ مفاہمت کو عملی شکل میں لایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ فتح نے ہم سے غزہ کی پٹی میں جو سہولت مانگی ہم نے دے دی۔ ہم نے غزہ کی پٹی میں صدر محمود عباس کی رہائش گاہ کو فتح کے تصرف میں دے دیا۔ الیکشن کمیشن کے لیے مرکزی دفترکے قیام اور اس کی چھ ذیلی شاخوں کے لیے دفاتر کے قیام کی اجازت دے دی۔ فتح کو غزہ کی پٹی میں ہر قسم کی سیاسی نقل و حرکت کی اجازت دے دی لیکن مغربی کنارے میں حماس کو یہ تمام سہولتیں میسر نہیں ہیں۔

