فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے اپنے دوسرے بیرون ملک دورے کے دوران امیرقطر الشیخ حمدبن خلیفہ آل ثانی سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کےدوران فلسطین کی موجودہ صورتحال،
غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی معاشی ناکہ بندی، بیت المقدس اور مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور عرب ممالک میں جاری انقلابی تحریکوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسماعیل ھنیہ نے امیرقطر کوغزہ کی تازہ صورت حال بالخصوص معاشی پابندیوں کے باعث شہریوں کو درپیش مشکلات سےتفصیل سے آگاہ کیا۔ اسماعیل ھنیہ نے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے سنہ 2008ء کے آخر میں غزہ کی پٹی پر مسلط جنگ کے باعث شہر کا انفراسٹرکچر بری طرح تباہ ہو گیا تھا۔
وزیراعظم نے امیرقطرکو فلسطینیوں کے مابین مفاہمت کے سلسلے میں کی جانے والی مساعی سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ قابض اسرائیلی حکومت کی جانب سے بیت المقدس کو یہودیت میں تبدیل کرنے کے منظم منصوبے پر کام جاری ہے جس سے شہر کی اسلامی شناخت اور تاریخی تشخص بری طرح مجروح ہو رہا ہے۔ دونوں رہ نماؤں کے مابین عرب ممالک میں جاری انقلابی تحریک اور اس کے مسئلہ فلسطین پراثرات پربھی بات چیت کی گئی۔
امیر قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ ان کی حکومت فلسطینیوں کی مدد جاری رکھے گی۔ انہوں نے غزہ کی معاشی ناکہ بندی، بیت المقدس اور مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری اور فلسطینیوں کی بے دخلی پر اسرائیل کی شدید مذمت کی۔
الجزیرہ ٹی وی کے دفتر کا دورہ
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے اپنے دورہ قطر کے دوران عرب ممالک کے معروف نشریاتی ادارے "الجزیرہ ٹی وی” کے دفتر کا بھی دورہ کیا۔ انہوں نےعرب ممالک بالخصوص فلسطین کے ایشو کو بھرپورکوریج دینے پر الجزیرہ کی انتظامیہ کے کردار کوخراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ الجزیرہ نیٹ ورک نے فلسطینیوں کےدل موہ لیے ہیں۔ اس کی ٹیم کی پیشہ ورانہ اور فلسطین حامی پالیسی سے دشمنوں کومیڈیا کے محاذوں پر سخت پریشانی کا سامنا رہتا ہے۔

