فلسطین میں خوراک سے متعلق امور کے نگراں ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کو مضرصحت گوشت اور دیگر اشیائےخورونوش کی بڑی مقدار فراہم کر رہا ہے جس سےفلسطینیوں میں کئی طرح کے امراض جنم لینے لگے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں”تحفظ صارفین” کے لیے کام کرنےوالی ایک تنظیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مضرصحت غذائی مواد مختلف بندرگاہوں کے راستے مغربی کنارے اورغزہ کی پٹی میں منتقل کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی کسٹم حکام اور غذائی مواد کی چیکنگ پر مامور حکام دانستہ طور پرغذائی سامان کی جانچ پڑتال میں غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان میں مچھلیاں، چکن اور دیگر گوشت بھی شامل ہے جو مختلف بندرگاہوں پر کئی ماہ پڑا رہنے کے بعد خراب ہونے کے باوجود فلسطینی علاقوں میں داخل کر دیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام کی طرف سے اب تک زائد المیعاد خوراک کے علاوہ ایسی ادویات بھی فراہم کی جاتی رہی ہیں جو فلسطینیوں کے لیے مضرصحت ثابت ہوئیں۔ حالیہ کچھ عرصے میں ٹنوں کے حساب سے خراب مچھلی اور چکن غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کو بھیجا گیا۔
انسانی حقوق کی تنظیم نےاسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کو مضرصحت اشیاء کھلا کر انتقام لینے کا سلسلہ بند کرے اور بندرگاہوں سے جو بھی سامان فلسطینی علاقوں میں داخل کیا جائے اس کی پوری پوری چھان بین کی جائے۔

