فلسطینی صدرمحمود عباس کی جماعت الفتح کے ذرائع نے بتایا ہے کہ جماعات سے نکالے گئے باغی رہ نما محمد دحلان نے پیش آئند پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق محمد دحلان نے فلسطینی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے تیاریاں آج ہی سے شروع کر دی ہیں اور وہ فتح کے برطرف رہ نماؤں کی پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیں گے۔
خیال رہے کہ محمد دحلان فتح کی مرکزی کمیٹی کے رکن تھے تاہم ان پربدعنوانی کے الزام کے تحت انہیں صدر محمود عباس نے پارٹی سے نکال دیا تھا۔ وہ ان دنوں اردن سمیت متعدد دیگرعرب ملکوں میں جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں جبکہ فلسطینی عدالتوں نے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر رکھے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ محمد دحلان فلسطین میں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے آئے تو انہیں گرفتار کر لیا جائے گا اور ان کی گرفتاری ان کے انتخابات میں حصہ لینے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد دحلان نے اردن میں میں فتح میں موجود اپنے حامی رہ نماؤں کے ساتھ گذشتہ ایک ماہ میں تین الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔ یہ ملاقتیں خفیہ تھیں، جن کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں تاہم ان ملاقاتوں کااہم ترین موضوع دحلان کے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد دحلان انفرادی طورپر انتخابات میں حصہ لینے کے بجائے فتح کے ایک باغی گروپ کو الگ سے منظم کر رہے ہیں۔ وہ فلسطینی پارلیمانی انتخابات کے لیے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے دونوں علاقوں سے حصہ لیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد دحلان کی جانب جھکاؤ رکھنے والے بعض پارٹی لیڈروں نے دحلان سے ملاقاتوں کے بعد اپنے طور پر مغربی کنارے میں پارٹی کی سطح پر مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کے دوران وہ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی نہ کسی ذریعے سے محمد دحلان کےخلاف عدالتوں میں قائم مقدمات کو ختم یا نرم کیا جا سکے تاکہ داحلان انتخابات میں حصہ لینے کے لیے خود ہی مغربی کنارے یا غزہ کی پٹی میں آ سکیں۔ تاہم فتح کے محمود عباس کے حامی دھڑے نے دحلان کے بارے میں کسی قسم کی لچک دکھانے کا کوئی عندیہ نہیں دیا ہے۔

