مقبوضہ بیت المقدس کی صہیونی بلدیہ کے بلڈوزرز نے پیر کی علی الصبح بیت حنینا کی کالونی الاشقریہ میں میں ایک فلسطینی شہری کا گھر مسمار کر دیا ہے، گھر کے مالک محمد سمارہ نے بتایا کہ اسرائیلی بلدیہ نے تین سال قبل اس گھر کو گرانے کا نوٹس جاری کیا گیا۔
اسی طرح ڈسٹرکٹ عدالت بھی ان پر تین ہزار شیکل مالی جرمانہ عائد کر چکی ہے۔ اسرائیلی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ گھر متعلقہ اتھارٹی کیاجازت کے بغیر تعمیر کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ گھر کی مسماری محمد سمارہ، ان کی بیوی اور چار بچے بغیر چھت کے کھلے آسمان تلے آ گئے ہیں۔ سمارہ ایک یہودی بستی ’’ریخس شعفاط‘‘ کے قریب ہی پینٹنگ کا کام کرتا ہے۔
گھر سے محروم کیے جانے کے بعد اس خاندان کے پاس رہنے کو جگہ ہے اور نہ ہی بنیادی ضروریات کا سامان رکھنے کی کوئی جگہ۔ خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں فلسطینی شہریوں کو مختلف حیلے بہانوں سے ہجرت پر مجبور کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
اسرائیلی القدس کے بابرکت شہر کو مکمل طور پر یہودی رنگ میں رنگنے کے لیے یہاں کے اصل شہریوں کی جائیدادوں پر بھی قبضہ کرتا جا رہا ہے۔

