قابض اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے اندھا دھند منصوبوں کے بعد شہر کے شمالی حصے بیت حنینا میں بھی یہودی کالونیوں کی تعمیرکا ایک نیا منصوبہ تیار کیا ہے۔
یہ منصوبہ اسی علاقے کے قریب شیخ جراح کے مقام پر دو سال قبل مکمل ہونے والے تعمیراتی منصوبوں کے بعد دو سال ہی کے وقفے سے شروع کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی عبرانی اخبار”یروشلیم” کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ دو برسوں سے جس طرح یہودی کالونیوں کی تعمیر کے خلاف شیخ جراح کے فلسطینیوں اور اسرائیلی حکومت کے درمیان کشیدگی جاری رہی ہے، اسی طرح صہیونی حکومت اور بیت حنینا کے مکینوں کے درمیان بھی اسی نوعیت کی کشمکش شروع ہونے والی ہے، کیونکہ اسرائیل نے شیخ جراح جو کہ بیت حنینا کا ایک پڑوسی علاقہ ہےبھی اسی نوعیت کے یہودی آباد کاری کے منصوبے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بیت حنینا میں پانچ سال قبل یہودی اراکین کنیسٹ نے دو مکان خرید کیے تھے، جس کے بعد ان مکانات کے آس پاس مزید مکانات تعمیر کرنے اور ان میں یہودیوں کو آباد کرنے کی سکیم تیار کی گئی تھی۔
اخبار مزید لکھتا ہے کہ انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے بیت جنینا میں خریدے گئے مکانات میں رہائش رکھنے کے لیے عدالت کی جانب سے کوئی قانونی ممانعت بھی نہیں ہو گی کیونکہ عدالت ہر اس مکان میں یہودی آباد کاروں کو رہائش اختیار کرنے کی اجازت ہے جسے وہ خود سے خرید کرتے ہیں یا انہیں حکومت یا کسی تنظیم کی جانب سے الاٹ کیا جاتا ہے۔
ذرائع کےمطابق اسرائیلی پارلیمنٹ میں دائیں بازو کے انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے گذشتہ ہفتے بیت حنینا میں پہلے سے خرید کردہ دو مکانات کے قریب ایک اور مکان تعمیر کیا گیا ہے۔ انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے بیت حنینا میں ایک اور مکان کی چپکے سے تعمیر کے بعد منگل کے روز وہ اراکین کنیسٹ بھی بیت حنینا میں اپنے خرید کردہ مکانات کو دیکھنے گئے تھے۔ اس دوران انہوں نے مقامی فلسطینیوں سے کہا کہ وہ جلد ازجلد ان کوٹھیوں کو خالی کر دیں، جن میں سے ایک مکان بائیس سو میٹر کے علاقے پر پھیلا ہوا ہے۔

