فلسطین کےمقبوضہ مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کی جماعت الفتح کے متنازعہ وزیراعظم سلام فیاض کی جانب سے اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے ساتھ امتیازی پالیسیوں کا سلسلہ ایک ایسے وقت میں بھی جاری ہے جب دوسری جانب دونوں بڑی جماعتوں(حماس اور فتح) کے مابین مفاہمت کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں ذرائع نے مرکزاطلاعات فلسطین کوبتایا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے سے فلسطینی جیلوں سے رہا ہونے والے مختلف جماعتوں کے اراکین کی الگ الگ درجہ بندی کی گئی ہے۔ان میں حماس سے وابستہ رہنے والے سابق اسیران کو ان کی نوکریوں پر بحال کرنے کے بجائے انہیں جبری ریٹائر کیا جا رہا ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر رہے کہ گذشتہ مہینے 22دسمبر کو حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل اور صدر محمود عباس کے درمیان قاہرہ میں ہونے والی بات چیت میں یہ طے کیا گیا تھا کہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے زیرکنٹرول علاقوں میں پکڑے سیاسی اسیران کو رہا کریں گی نیز رہا ہونے والے مختلف سیاسی کارکن اپنی اپنی سرکاری نوکریوں پر بحال ہو جائیں گے۔ حماس کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد غزہ کی پٹی میں فتح کے سابق اسیران کو ان کی نوکریوں پر بحال کردیا گیا ہے تاہم مغربی کنارےمیں سلام فیاض کی حکومت حماس کے سابق اسیران کے ساتھ امتیازی سلوک اختیار کیے ہوئے ہے۔
ایک سابق اسیر نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ انہیں سلام فیاض کی حکومت کی جانب سے یہ بتایا گیا ہے کہ وہ تمام اسیر جو گذشتہ دس سال یا اس سے زیادہ کے عرصے تک جیلوں میں رہے ہیں اور گرفتاری کے وقت وہ کسی سرکری محکمے میں ملازم تھے،انہیں رہائی کےساتھ ہی ریٹائرڈ سمجھا جائے گا۔
ایک سابق اسیر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب انہیں رہا کیا جا رہا تھا اس وقت سابق اسیران پر مشتمل ایک گروپ نے فلسطینی وزیرعیسیٰ قراقع اور کلب برائے اسیران فلسطین قدورہ فارس سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد قیدیوں کے نمائندان نے انہیں واپس آ کر یقین دلایا کہ وہ انہیں حراست کےعرصے کے دوران سو فیصد تنخواہیں دلائیں گے،اس دوران ہم سے یہ عہد بھی لیا گیا کہ ہم رہائی کے بعد کسی دوسرے ادارے کے لیے کام نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی اور سے تنخواہ لیں گے تاہم جب ہم رہا ہوئے تو ہمیں کہا گیا کہ آپ کوابتدائی تنخواہ کے مطابق ہی اسیری کے عرصے کی تنخواہ جاری کی جائے گی، نیز یہ کہ انہیں نوکریوں پرمزید کام کرنے کی بھی اجازت نہیں ہو گی۔

