فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس (ابومازن) نے اسرائیل کے ساتھ راست مذاکرات کی بحالی کے لیے ابتدائی نوعیت کے مذاکرات کی ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔ یہ مذاکرات رواں ماہ کےاوائل میں شروع ہوئے تھے
جن کا چھٹا دور جمعرات کو اردن کی میزبانی میں ہوا تھا۔اجلاس کے دوران عالمی ثالثوں کی جانب سے فریقین پر زور دیا گیا وہ فلسطینی ریاست کی حدود اور سیکیورٹی سے متعلق کسی فارمولے پر اتفاق کریں تاہم صہیونی مذاکرات کاروں کےغیرلچک دار رویے کے باعث مذاکرات کا ڈرامہ فلاپ ہو گیا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق محمود عباس نے ہفتے کے روز آئرلینڈ کے وزیرخارجہ و تجارت ایمن گلمور سے رام اللہ میں ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ "اسرائیلیوں نے ان کی جانب سے فلسطینی ریاست اور سیکیورٹی سے متعلق امور کے بارے میں واضح طور پر پیش کردہ نکات پر بھی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہم نےامریکا، یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ پر مشتمل گروپ چار کی سفارشات کے مطابق فلسطینی ریاست کی حدود اور سیکیورٹی کا فارمولہ تیار کیا تھا، تاہم اسرائیلی مذاکرات کاروں نے ان کے فارمولے کو مسترد کر دیا "۔
ایک سوال کے جواب میں محمود عباس کا کہنا تھا کہ انہیں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کےباوجود امن عمل کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل کو سنہ 1967ء سے ما قبل والی پوزیشن پر لے جانا چاہتے ہیں اور بقیہ علاقوں پر مشتمل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کوشاں ہیں۔ ان علاقوں میں مغربی کنارا، غزہ کی پٹی اور مقبوضہ بیت المقدس شامل ہیں، مقبوضہ بیت المقدس فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہو گا۔
قبل ازیں آئرش وزیرخارجہ نے غزہ کی پٹی کا بھی دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی”اونروا” کے حکام اور سول سوسائٹی کے ارکان سے ملاقاتوں میں غزہ کی معاشی ناکہ بندی کی شدید مذمت کی تھی۔ انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ غزہ کی پٹی پر عائد اقتصادی پابندیاں فوری طور پر ختم کرے۔

