فلسطینی انتظامیہ کے زیرانتظام علاقے مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں جمعہ کے روز اسرائیلی مظالم کے خلاف نکالے گئے فلسطینیوں کے جلوسوں پر صہیونی فوج نے اشک آور گیس کی بےدریغ شیلنگ کی جس کے نتیجے میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے مندوبین سمیت کئی افراد زخمی ہو گئے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق جمعہ کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد رام اللہ کے قریبی شہر بلعین میں نکالے گئے ہفتہ وار جلوس کو منتشر کرنے کے لیے قابض فوج نے آنسو گیس کے اندھادھند گولے پھینکے، جن کے نتیجے میں غیرملکی رضاکاروں سمیت کئی افراد زخمی ہو گئے۔زخمیوں میں ایک فلسطینی صحافی بھی شامل ہے، جس کے پاؤں پر ایک آنسو گیس کا شیل گرکر پھٹا جس سے اس کا پاؤں شدید زخمی ہو گیا۔
علاقے میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے تعمیر کی گئی یہودی کالونیوں اوران کے تحفظ کے لیے بنائی گئی نسلی دیوار کے خلاف فلسطینیوں نے ہفتہ وار احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین میں ہزاروں افراد شریک تھے۔
مظاہرے کا اہتمام کرنے والی عوامی مزاحمتی کمیٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہےکہ قابض صہیونی فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر ربڑ کی گولیاں چلائیں اور اشک آور گیس کے گولے پھینکے۔ اسکے علاوہ قابض فوج نے احتجاجی مظاہرین کو لاٹھیوں سے بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔
عینی شاہدین کے مطابق صہیونی فوجیوں کی جانب سے پھینکے گئے آنسو گیس کے شیل لگنے سے کئی افراد زخمی ہوئے اور کئی شہری آنسو گیس کی مہلک گیس کے باعث دم گھٹنےسے بھی زخمی ہوئےہیں۔
اس موقع پر فلسطینی مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر قابض صہیونی فوج ، نسلی دیوار کی تعمیر روکنے اور یہودی آباد کاری کے خلاف نعرے درج تھے۔ اسکےعلاوہ مظاہرین نے فلسطینیوں کے مابین جلد ازجلد سیاسی مفاہمت کرنے کا بھی مطالبہ کیا

