یورپی ملک آئرلینڈ کے وزیرخارجہ ایمن گلیمور نے فلسطینی شہر غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی مسلط کردہ معاشی پابندیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ ملین لوگوں کو معاشی پابندیوں کی سزا دینے کا کوئی جواز نہیں۔ اسرائیل فوری طور پرغزہ کی معاشی ناکہ بندی ختم کرے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق آئرش وزیرخارجہ نے یہ بات اپنے تین روزہ فلسطینی دورے کے دوران غزہ کی پٹی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہی۔
قبل ازیں آئرش وزارت خارجہ کے ترجمان فیلپ گرانٹ نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ وزیرخارجہ ایمن پانچ سال میں پہلی مرتبہ غزہ کی پٹی کا دورہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ کےدورہ غزہ کا مقصد محصور شہر میں شہریوں کی معاشی اور سماجی مشکلات سے آگاہی حاصل کرنا اور نہتے شہریوں کی مدد کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہے۔
اپنے غزہ کی پٹی کے چند گھنٹے پر مشتمل دورے کے دوران آئرش وزیرخارجہ نے اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی برائے پناہ گزین "اونروا” کے حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اس کےعلاوہ انہوں نے فلسطینی سماجی تنظمیوں اور سول سوسائٹی کے ارکان سے بھی بات چیت کی۔اس موقع پر فلسطینی سول سوسائٹی کے نمائندوں کی جانب سے آئرش وزیرخارجہ کو غزہ کی موجودہ صورت حال پرت فصیلی بریفنگ دی۔
خیال رہے کہ تین ماہ قبل اسرائیل نے یورپ سے امدادی سامان لے کر آنے والے دو بحری جہازوں کوغزہ کی پٹی کی طرف جانےسے روک دیا تھا، ان میں ایک جہاز آئرلینڈ کا تھا۔ آئرش حکومت کی جانب سے امدادی مشن پر غزہ آنے والے جہازوں کو اسرائیلی بحریہ کی جانب سے روکنے کی شدید مذمت کی تھی۔

