فلسطینی مزاحمتی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے سیاسی شعبے کے نائب صدر ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے ملک میں مفاہمت کے لیے ہر ممکن لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ کچھ بھی کردیا ہے
جو کوئی دوسری جماعت نہیں کرسکی انہوں نے صدر محمود عباس کی جماعت الفتح پر زور یا کہ وہ بھی اپنے حصے کا کام کرے تاکہ مفاہمت کے لیے جاری مساعی کو عملی شکل دی جا سکے۔
حماس رہ نمانے ان خیالات کا اظہار لندن سے شائع ہونے والے عربی اخبار”الحیاۃ” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مفاہمت کہ ناکامی کے حوالے سے ایک دوسرے کو الزام دینے کے بجائے اپنے حصے کے اقدامات اور ذمہ داریاں ادا کی جائیں تاکہ مفاہمت کا عمل جلد آگے بڑھ سکتا ہے۔
ایک سوال کےجواب میں حماس رہ نما نے کہا کہ ان کی جماعت اور غزہ کی پٹی میں ان کی حکومت نے صدر محمود عباس کی رہائش فتح کے حوالے کر دی،غزہ میں مرکزی الیکشن کمیشن کا دفتر اسکی چھ ذیلی شاخوں کے قیام اس کے علاوہ فتح کے 80 فی صد اراکین اور رہ نماؤں کو غزہ آنے کی اجازت دے دی اور 43 میں سے 27 سیاسی کارکنوں کو بھی رہا کر دیا ہے حالانکہ وہ غزہ کی پٹی میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
فلسطین میں قومی حکومت کے قیام کے سلسلے میں ڈاکٹر مرزوق نے کہا کہ قاہرہ میں دونوں جماعتوں کےمابین قومی حکومت کے لیے اتفاق ہو چکا ہے۔ صدر محمود عباس اور حماس کے لیڈر خالدمشعل نے قومی حکومت کی تشکیل کا فریم ورک تیار کر لیا تھا۔ اب فلسطینی اتھارٹی قومی حکومت کے قیام کو امریکا، یورپی یونین، اقوام متحدہ اور روس کے ساتھ مذاکرات سے مشروط کر رہی ہے جو مفاہمت سے فرار کی کوشش ہے۔
حماس رہ نما نے اردن میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی مندوبین کے جاری مذاکارات کی مذمت کی اور کہا کہ صہیونی دشمن کےساتھ مذاکرت قوم کے ساتھ فراڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات صرف امریکا اور نیتن یاھو کی خواہش کے مطابق ہو رہے ہیں۔

