فلسطین کی ایک بڑی عسکری تنظیم اسلامی جہاد نے اردن کی میزبانی میں اسرائیل اور فلسطینی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کی شدید مذمت کی ہے۔
اسلامی جہاد کا کہنا ہے کہ صہیونی دشمن کے ساتھ مذاکرات نے قوم کو مزید منتشر کیا ہے۔ فلسطینی قوم کو آج تک مذاکرات کے ذریعے حقوق نہیں مل سکے ہیں، فلسطینیوں کو جب اور جہاں بھی ان کا کوئی حق ملا تووہ صرف مسلح مزاحمت کا ثمر تھا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسلامی جہاد کے سیاسی شعبے کے رکن محمد الہندی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ ایک ایسے وقت میں مذاکرات شروع کرنا جب تمام فلسطینی جماعتیں مفاہمت کا معاہدہ کرنے کی تیاریاں کر رہی تھیں ناقابل فہم ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی میں ایسے عناصر موجود ہیں جو مفاہمت کے بجائے اسرائیل سے مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل صرف طاقت کی زبان جانتا ہے۔ فلسطینی قوم کو اسرائیل کے ساتھ اسی زبان میں بات کرنی چاہیے۔ اسرائیل کے ساتھ نام نہاد بات چیت کا عمل قوم کے حقوق پر ڈاکہ ہے۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی اور صدر محمود عباس سے مطالبہ کیا کہ وہ صہیونی دشمن کے ساتھ مذاکرات کی تمام اشکال ختم کر دیں۔ فلسطینی اپنے حقوق کے سلسلے میں کوئی ان کیمرہ مذاکرات تسلیم نہیں کریں گے۔
خیال رہے کہ گذشتہ ایک ماہ سے فلسطینی اتھارٹی اوراسرائیل کے درمیان اردن کی میزبانی میں راست مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ مذاکرات کا پانچواں دور جمعرات کو عمان میں ہوا جو بے نتیجہ ختم ہو گیا۔

