فلسطین کی منظم مذہبی سیاسی جماعت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے اراکین قانون ساز کونسل کی اسرائیل کے ہاتھوں ہونے والی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل دانستہ طور پر فلسطینی مجلس قانون سازکےعمل کو غیرموثر اور تعطل کا شکار کرنا چاہتا ہے۔
ڈکٹر عزیز دویک اور دیگر اراکین کی گرفتاریاں اسی صہیونی سازش کا حصہ ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کےمطابق حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ منگل کے روز رام اللہ میں رکن قانون سازکونسل جابر الفقہا کی گرفتاریاں مجلس قانون ساز پر براہ راست حملہ ہیں۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل فلسطینی سیاستی جماعتوں کے درمیان جاری مفاہمتی کوششوں سے خوف زدہ ہے جس کی بناء پر صہیونی ریاست نے مجلس قانون سازکے اراکین کو انتقام کا نشانہ بناناشروع کر دیا ہے۔
صہیونی عدالت سے مجلس قانون سازکے اسپیکر ڈاکٹرعزیز دویک کو چھ ماہ کی مدت حراست میں رکھنے کا فیصلہ قابل مذمت ہے۔ اسرائیل اس طرح کے اقدامات سے مجلس قانون ساز کے نظام کو معطل کرنا چاہتا ہے۔ حماس نے فلسطینی قوم سے مطالبہ کیا کہ وہ صہیونی جارحیت اور اراکین قانون ساز کونسل کی گرفتاریوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل دانستہ طور پر مجلس قانون ساز کے ارکان کو نشانہ بنا رہا ہے۔ فلسطینی عوام کو تمام اراکین اور مجلس قانون ساز کے تحفظ کے لیے اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔

