گزشتہ پارلیمان انتخاب کے نتائج کے اعتبار سے فلسطین کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی قائم کردہ حکومت کا وفد، جو پہلی مرتبہ کسی یورپی ملک کےدورے پر روانہ ہوا تھا، کا سات روزہ دورہ سوئٹزرلینڈ مکمل ہو گیا ہے۔
مشیر المصری کی سربراہی میں فلسطینی اراکین پارلیمان ڈاکٹر خمیس النجار اور سید ابو مسامح سمیت متعدد افراد پر مشتمل فلسطینی وفد ہفتہ کے روز سوئٹزرلینڈ پہنچا تھا۔ یورپی یونین کی جانب سے پہلی مرتبہ حماس کے وفد کو باقاعدہ یورپ آنے کی دعوت دی گئی تھی۔
وفد نے اپنے سات روزہ دورے کے دوران عالمی پارلیمان ییونین کے اجلاس میں شرکت کی۔ وفد نے انسانی حقوق کمیشن کے سامنے اسرائیلی جیلوں میں مقید فلسطینی اراکین پارلیمان، القدس سے شہر بدر کیے جانے والے اراکین پارلیمان اور عام فلسطینی اسیران کے مسائل کو کھول کر بیان کیا۔
اس دورے کے دوران وفد کے اراکین نے پارلیمانی شخصیات اور سوئٹزرلینڈ کی سرکاری شخصیات سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وفد کی سوئٹزرلینڈ میں اسلامی اور سماجی تنظیموں کے عہدیداران سے بھی گفت و شنید ہوتی رہی۔
حماس وفد کے باقاعدہ دعوت پر پہلی مرتبہ کسی یورپی ملک کےدورے نے یورپ میں موجود یہودی لابی کے اس پروپیگنڈے کے غبارے سے بھی ہوا نکال دی ہے جو اس نے حماس کے اراکین کے اس دورے کو روکنے کے لیے وہاں شروع کر رکھا تھا۔ اس دورے کو روکنے کے لیے اسرائیلی پارلیمان کے اسپیکر ریوفین ریولین اور صہیونی وزیرخارجہ نے انسانی حقوق کمیشن سے اپیل کی تھی کہ حماس کے وفد کو سوئٹزرلینڈ نہ بلایا جائے۔ حماس کے وفد کے سربراہ مشیر المصری نے اپنے اس دورے کو کامیاب اور سود مند قرار دیا ہے۔

