فلسطینی اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے خارجہ تعلقات شعبے کے نگران اسامہ حمدان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت شام کے بحران میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کسی قسم کی ثالثی نہیں کرے گی۔
انہوں نے شام کے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ بحران کے حل کے لیے جلد مٓذاکرات کی طرف لوٹیں اور غیرملکی مداخلت کے بغیر بحران حل کریں۔
عرب نشریاتی ادارے”الجزیرہ” کوایک انٹرویو میں حماس رہ نما نے اس بات کی تردید کی کہ دمشق نے حماس کی قیادت سے ملک چھوڑنے اور اپنے دفاتر کسی دوسرے عرب یا اسلامی ملک منتقل کرنے کا کہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حماس شروع دن سے شام کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ حماس نے شام میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کو بارہا یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل کا حل تلاش کریں۔
اسامہ حمدان نے کہا کہ شام میں حماس کے موجودگی کے بارے میں کئی قسم کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ حماس شام سے اپنا دفتر کسی دوسرے ملک منتقل کر رہی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ حماس نے صدر بشارالاسد سے کہا ہے کہ وہ شام چھوڑ رہی ہے اور کوئی یہ کہتا ہے کہ صدر اسد نے حماس کو شام چھوڑنے کا کہا ہے۔ میں ان تمام افواہوں کا ایک ہی جواب دوں گا کہ حماس دمشق میں موجود ہے اور اس کے دفتر وہیں پر ہیں کسی دوسرے ملک میں منتقل کرنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔
شام کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے حماس رہ نما نے کہا کہ شام ایک حقیقی بحران سے گذر رہا ہے۔فوج کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکتوں اور خون خرابے نے بحران کو مزید گھمبیر کر دیا ہے۔ حماس کا اس بحران کے خاتمے کے لیے کوئی براہ راست عمل دخل نہیں۔ حماس شامی حکومت،اپوزیشن اور قومی دھاروں سب کے برابر رابطے میں ہے۔ حماس کی قیادت کو جب سے اردن سے بے دخل کر کے شام منتقل کیا گیا تھا اس کے بعد شامی قوم اور حماس کے درمیان گہرے تعلقات ہیں۔
اردن کے ساتھ تعلقات
اردن حکومت اور حماس کے درمیان دوبارہ رابطوں کی بحالی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں اسامہ حمدان نے کہا کہ آج سے بارہ سال قبل اردن نے حماس کی قیادت کو عمان سے بےدخل کر دیا تھا۔ حماس کے کئی رہ نماؤں کو گرفتارکر لیا گیا اور جماعت کے دفاترسیل کر دیے گئے۔
اس کے باوجود حماس نے اردن کے ساتھ سیاسی اور میڈیا کی سطح پر کسی قسم کی پنجہ آزمائی نہیں کی۔آج ایک مرتبہ پھراردنی حکومت کو احساس ہوا ہے کہ حماس کی قیادت کی جلا وطنی ایک غلط فیصلہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حماس اب اردن کے ساتھ ایک مربتہ پھر تعلقات بہتر کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
اسامہ حمدان کا کہنا تھا کہ اردن حکومت کے عہدیداروں کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہےکہ وہ حماس کی قیادت کو ملک سے نکال باہر کرنے کے پر اب شرمندہ ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ حماس کے ساتھ انہوں نے جو سلوک کیا تھا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔
انہوں نےامید ظاہر کی کہ اردن حکومت حماس کے ساتھ تمام پہلوؤں سے مذاکرات شروع کرے گی اور تنظیم کو اردن میں اپنی سرگرمیوں کی کھل کر اجازت فراہم کرے گی۔

