فلسطینی مزاحمتی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے گذشتہ ایک سال کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کے زیرکمانڈ سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں تنظیم کے کارکنوں کی گرفتاریوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
حماس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2011ء کے دوران عباس ملیشیا نےمقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں سے 850 فلسطینیوں کو حراست میں لیا، ان میں 350 اسیران کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کیا گیا تھا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق گذشتہ برس گرفتار کیے گئے حماس کے کارکنوں میں آٹھ صحافی بھی شامل ہیں۔ سب سے زیادہ گرفتاریاں مغربی کنارے کے شہر نابلس سے کی گئیں جہاں سے کم سے کم 310افراد کی گرفتاریاں رجسٹرڈ کی گئی ہیں۔ اس دوران 67 کارکنوں کے خلاف جعلی مقدمات کے قیام کے بعد انہیں فوجی عدالتوں میں پیش کیا گیا اور فوجی عدالتوں سے ان کے خلاف سزائیں منظوری کرائی گئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2011ء کے دوران عباس ملیشیا کی صہیونی فوج کے ساتھ سیکیورٹی ہم آہنگی اور تعاون کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران عباس ملیشیا نے غیر قانونی طریقے سےاور مجرمانہ کارروائیوں کے لیے مغربی کنارے میں داخل ہونے والے چار یہودیوں کو بھی بغیر کسی مقدمہ یا کارروائی کے اسرائیلی فوج کے حوالے کر دیا گیا۔ دوسری جانب عباس ملیشیا کی جیلوں سے رہائی پانے والے 160حماس کے کارکنوں اور رہنماؤں کو فوری حراست میں لے لیا گیا اور یہ گرفتاریاں بھی عباس ملیشیا کے صہیونی فوج کے ساتھ تعاون ہی کے باعث کی گئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ عباس ملیشیا نے حماس اور فتح کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کا بھی کوئی پاس و لحاظ نہیں کیا ہے۔ ایک جانب فتح کے مذاکرات کار حماس کو تمام سیاسی کارکنوں کی فوری رہائی کی یقین دہانی کراتے اور دوسری جانب عباس ملیشیا حماس کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بڑھا دیتی تھی۔

