فلسطینی اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” اور صدر محمود عباس کی جماعت الفتح نے مفاہمت کے لیے کوششیں ایک مرتبہ پھر تیز کر دی ہیں۔ اس ضمن میں حماس اور فتح کے دو الگ الگ وفود کل ہفتے کے روز غزہ میں حماس کے وزیراعظم اسماعیل ھنیہ سے ملاقات کریں گے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے رکن قانون ساز کونسل اسماعیل الاشقر نے میڈیا کو بتایا کہ فتح کی قیادت کو بخوبی اندازہ ہے کہ مفاہمت سے پسپائی گھاٹے کا سودا ہو گا، لہٰذا وہ اس ادراک کے ساتھ حماس کی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کے لیے تیار ہے۔ اسی سلسلے میں حماس اور فتح کے قائدین ہفتے کے روز غزہ میں اسماعیل ھنیہ سے مذاکرات کریں گے۔ ان مذاکرات کا واحد ایجنڈا مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینی سیاسی جماعتوں کے مابین اشتراک عمل کو آگے بڑھانا اور قاہرہ میں گذشتہ ماہ طے پائے مفاہمتی معاہدے کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین میں قومی مفاہمت پوری قوم کا مشترکہ فیصلہ ہے۔ ہمیں ملک میں مفاہمت کاعمل آگے بڑھانے کے لیے سست روی سے کام لینے کے بجائے جلد ازجلد تمام تنازعات کو حل کر لینا چاہیے۔
اسماعیل اشقر کہہ رہے تھے کہ فلسطینیوں کے مابین مفاہمت کے عمل میں تعطل کی بنیادی وجہ بیرونی مداخلت ہے۔ غیرملکی مداخلت کی راہ بند کر دی جائے تمام مسائل کا حل ممکن ہے۔
انہوں نے چند روز قبل بیت حنون سے فتح کے وفد کی غزہ میں داخلے کی اجازت نہ دینے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے تنازع کے بارے میں کہا کہ حماس کا فتح کے وفد کو بیت حنون سے واپس بھجوانے میں کوئی کردار نہیں ۔

