فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان اردن کی میزبانی میں اس ہفتے ہونے والے مذاکرات کےپہلے دو ادوار میں اسرائیل نے مذاکرات کی نتائج سے مایوسی کا اظہار کیا ہے
جبکہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے جانے کی کوئی ضمانت نہ ملنے کے باوجود بات چیت جاری رکھنے پر اصرار کر رہی ہے۔
پیر کے روز فلسطینی انتظامیہ کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات اور اسرائیلی وزیراعظم کے خصوصی ایلچی کے درمیان عمان میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اردن کی وزارت خارجہ کے ترجمان سفیر محمد الکائد نے سرکاری خبررساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فریقین میں عمان میں بات چیت کا عمل آگے بھی جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے پہلے دو ادوار میں کسی قسم کی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ تاہم فریقین ایک دوسرے کا موقف سمجھنے کی کوششش کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ پیش آئند ادوار میں بات چیت کاعمل مثبت نتائج برآمد کرے گا۔
ادھر منگل کے روز اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیلی مذاکرات کار اسحاق مولخو اور فلسطینی مندوب صائب عریقات ہفتے کے روزعمان میں مذاکرات کا تیسرا دور کریں گے، تاہم سرکاری سطح پر میڈیا کی ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبررساں ایجنسی” اے ایف پی” کو بتایا کہ پیر کے روز عمان میں ہونے والے مذاکرات میں نہ تو اسرائیل نے سیکیورٹی اور سنہ 1967ء کی حدود کے اندر فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق کوئی فارموملہ پیش کیا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔
فلسطینی عہدیدارنے بتایا کہ مذاکرات کے دوران فلسطینی انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر روک دے لیکن اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے اس مطالبے کا کوئی جواب ہی نہیں دیا ہے۔
خیال رہے کہ مذاکرات سے قبل فلسطینی انتظامیہ مسلسل یہ رٹ لگائے ہوئے تھی کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی بحالی صرف دو شرائط کے تحت ہو سکتی ہے۔ اول یہ کہ اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر و توسیع روک دے اور دوم یہ صہیونی ریاست سنہ 1967ء سے پہلے والی پوزیشن پر جانے کےلیے آمادہ ہو بقیہ فلسطینی علاقوں پر نئی فلسطینی ریاست قائم کرنے کی حمایت کرے۔اسرائیل نے ان دونوں شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی پوری نہیں کی ہے۔
ذرائع کےمطابق اسرائیلی حکومت کو ان مذاکرات میں کسی بڑی کامیابی کی توقع نہیں کیونکہ ماضی کی نسبت فلسطینی انتظامیہ بات چیت جاری رکھنے پر اصرار تو کر رہی ہے لیکن وہ مذاکرات کےعمل میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی وزیرخارجہ آوی گیڈورلائبرمین سمیت کئی اہم حکومتی شخصیات ان مذاکرات کی کامیابی سے نہ صرف مایوس ہیں بلکہ قبل از وقت ان کی ناکامی کا اعتراف کر چکے ہیں۔

