فلسطین کی منظم مذہبی اور سیاسی جماعت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر صلاح الدین بردویل نے کہا ہے کہ ان کی جماعت فلسطینیوں کے مابین مفاہمت کے لیے ہرممکن کوششیں کر رہی ہے
لیکن حماس کی کوششیں کافی نہیں بلکہ فتح کو بھی اپنےحصے کی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ حماس نے قاہرہ میں گذشتہ ماہ دونوں جماعتوں کے مابین ہونے والے مذاکرات میں جن نکات پر اتفاق کیا تھا ان پرعملدرآمد کیا گیا ہے لیکن فتح کی جانب سے نہ تو مغربی کنارے میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھایا گیا اور نہ اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کا سلسلہ ختم کیا گیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس رہ نما نے ان خیالات کا اظہار غزہ کی پٹی میں میڈیا کوجاری ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے مغربی کنارے کے شہر بیت حنون میں فتح کی قیادت کی جانب سے حماس پر شدید تنقید کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ فتح کے بعض رہ نماؤں کی جانب سےمنفی کردار کے باعث ایسے لگتا ہے کہ جماعت میں بعض عناصر ایسے ہیں جومفاہمت کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر بردویل کا کہنا تھا کہ فتح کو مفاہمتی معاہدے کے تحت طے شدہ نکات پرعمل درآمد میں تاخیرسے کام نہیں لینا چاہیے ، کیونکہ مفاہمتی معاملات میں تاخیر سے قوم میں مایوسی پھیل رہی ہے۔
شام میں قیام امن کے لیے حماس کی مساعی
ڈاکٹر صلاح الدین بردویل نے شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی بغاوت کی تحریک میں ملک میں قیام امن اور فریقین کے مابین مفاہمت کے سلسلے میں حماس کی کوششوں کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ شامی شہری فلسطینیوں کے بھائی ہیں۔ کوئی فلسطینی شام میں نہ خون ریزی چاہتا ہے اور نہ ہی شام کو عدم استحکام سے دوچار ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔
انہوں نے تنظیم آزادی فلسطین کے جنرل سیکرٹری یاسرعبد ربہ کی جانب سے شام میں حماس کی مساعی پر تنقید کو بلاجواز قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس شام میں کسی دوسرے ملک کی مداخلت کی حامی نہیں اور نہ ہی خود حماس شام کے معاملات میں کسی قسم کی مداخلت کرنا چاہتی ہے۔ تاہم فریقین کےدرمیان قربت پیدا کرنے کے لیے حماس سے جو ہو سکا وہ کرے گی۔ جمعہ کے روز قاہرہ میں حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل اورعرب لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر نبیل العربی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں حماس رہ نما نے یقین دلایا کہ وہ شام میں قیام امن کی کوششیں جاری رکھے گی۔
تیونس میں حماس کا ہیڈکواٹر منتقل کیے جانے کے بارے میں میڈیا میں آنے والی اطلاعات سے متعلق ڈاکٹر بردویل نے کہا کہ حماس کے تمام عرب ممالک کے ساتھ نہ صرف رابطے ہیں بلکہ گہرے مراسم ہیں، تاہم حماس کا بیرون ملک ہیڈکواٹر شام ہی میں رہے گا جسے کسی دوسرے ملک میں منتقل نہیں کیا جائے گا۔

