فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں صدر محمودعباس کی جماعت الفتح کے یوم تاسیس کے جلسے مکمل طور پر فلاپ ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ فتح کے یوم تاسیس کے جلسوں میں عوام کی عدم شرکت قوم کا فتح کے حوالے سے ریفرنڈم ہے۔
عوام نےآج ہی فیصلہ دےدیا ہے کہ وہ فتح کے ساتھ نہیں ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق جمعرات کے روز فتح کے سنتالیسویں یوم تاسیس کے حوالے سے مختلف اضلاع میں جلسے جلوسوں اور دیگر تقریبات کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں نابلس میں مرکزی جلوس کا اعلان کیا گیا جس کے لیے میدان شہداء کی جگہ متعین کی گئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق فتح کے زیرانتظام میڈیا نے گذشتہ کئی روز سے تنظیم کے یوم تاسیس کے حوالے سےپر زور مہم جاری تھی۔ جمعرات کے روز نابلس میں جلسہ گاہ بھرنے کے لیے سرکاری ملازمین اور اسکولوں کے طلباء و طالبات کو بھی پولیس کے ذریعے لانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے باوجود پینڈال میں ایک ہزار سے زائد افراد جمع نہیں ہو سکے، جبکہ فتح کی قیادت کے اعلان کے مطابق یوم تاسیس کے اس مرکزی جلسے میں ایک لاکھ لوگوں کے جمع ہونے کی پیشن گوئی کی گئی تھی۔
درایں اثناء فلسطینی مبصرین نے فتح کے یوم تاسیس کے جلسوں میں عوام کی عدم شرکت پر تبصرہ کرتےہوئے کہا ہے کہ جلسوں میں شریک نہ ہو کر فتح کےخلاف اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔ جماعت کا یوم تاسیس اس کے خلاف عوام کا ریفرنڈم ثابت ہوا ہے، کیونکہ شہریوں نے یوم تاسیس میں شریک نہ ہو کر فتح کی قیادت سے اپنی نفرت کا اظہار کیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ فتح کے یوم تاسیس میں لوگوں کی عدم شرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ آج اگر فلسطین میں انتخابات کرائے جائیں تو فتح کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

