قابض صہیونی فوج اور ریاستی اداروں کی جانب سے گذشتہ برس فلسطینیوں کےخلاف ریاستی دہشت گردی کے تمام مظاہرجاری رہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق صہیونی حکام نے 2011ء میں فلسطینیوں کی 3158 ایکڑ اراضی پر غاصبانہ تسلط قائم کیا۔ اس دوران صہیونی حکام نے فلسطینیوں کے اکتالیس مکانات مسمار کر کے دوسوبیاسی فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے محروم کردیا گیا۔
فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم” مرکز برائے انسانی حقوق فلسطین” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ سال دوہزار گیارہ میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی جان و ومال پر اور عرب شہریوں کے ہرقسم کے مفادات پر جارحانہ حملے کیے جاتے رہے۔ یہ حملے بیت المقدس میں شہر کے تشخص، اس کی تاریخ مسخ کرنے، اور کی ثقافتی اورتہذیبی شناخت مٹانے کے لیے کیے جاتے رہے۔
پورٹ کےمطابق صہیونی حکام نے گذشتہ برس کے بارہ میں فلسطینیوں کی 3158 ایکڑ اراضی غصب کر لی۔ اس کے ساتھ ساتھ 1098 پھل دار درخت اکھاڑے یا نذرآتش کیے گئے جبکہ 880پھل دار پودوں کو مکمل طورپرتلف کردیا گیا۔
رپورٹ کےمطابق گذشتہ برس اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں یہودیوں کے مفادات کی خاطر فلسطینیوں کے اکتالیس مکانات منہدم کر کے 282 افراد کو بے گھر کیا۔ ان بے گھرہونے والوں میں 177 بچے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 134 مکانات کے مالکان کو مکانات خالی کرنے اور گھر گرانے کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

