• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

"فلسطین کی یونیسکو رکنیت”اسرائیل کا2000 مکانات کی شکل میں جواب

بدھ 02-11-2011
in فلسطین
0
plf 2000_house
0
SHARES
1
VIEWS

plf 2000_house

اسرائیل نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس و ثقافت”یونیسکو” میں فلسطین کو ایک مستقل ممبر کا درجہ حاصل ہونے پر اسرائیل فلسطینیوں کےخلاف سخت انتقام پر اتر آیا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے یونیسکو کے اقدام کے ردعمل میں فوری طور پر مقبوضہ بیت المقدس کی دو بڑی کالونیوں”غوش عتصیون” اور "معالیے ادومیم”میں یہودیوں کے لیے مزید دو ہزار مکانات کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے علاوہ صہیونی حکومت نے فلسطینی انتظامیہ کو واجب الاداء تمام ٹیکس اور دیگر رقوم بھی روکنے کا اعلان کیا ہے۔

 

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق بنجمن نیتن یاھو کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ وزیراعظم نے ان علاقوں میں یہودیوں کے لیے مکانات کی تعمیر کی منظوری دی ہے جو کسی بھی معاہدے کی صورت میں اسرائیل کے حدود کا حصہ ہوں گے۔ ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں دو ہزار نئے مکانات کی تعمیر کی منظوری یونیسکو کے اقدام کا ردعمل نہیں، بلکہ اس کے بارے میں صہیونی کابینہ کی سیکیورٹی امور کی کمیٹی کئی ماہ سے غور کر رہی تھی۔ جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ان دو ہزار مکانات کی تعمیر کی منظوری ہنگامی طور پر دی ہے اور یہ یونیسکو میں فلسطینی ریاست کو مستقل ممبر کی رکنیت کا ردعمل ہے۔
ادھر دوسری جانب اسرائیلی کابینہ فلسطینی ریاست کو یونیسکو میں رکنیت ملنے پر فلسطینی اتھارٹی کی ہر قسم کی امداد منجمد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
صہیونی شدت پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی زیرصدارت کابینہ کے اجلاس میں فلسطینی ریاست کو یونیسکو میں یک طرفہ طور پر رکن کا درجہ دینے کی شدید مذمت کی گئی۔ اس موقع پر کابینہ نے متفقہ طور پر فلسطینی ریاست کو واجب الاداء ہرقسم کے ٹیکس اور دیگر امدادی رقوم روکنے کا فیصلہ کیا۔ خیال رہے کہ اسرائیل کسٹمزاور دیگر ٹیکسوں کی مدات میں جمع ہونے والی آمدن میں سے پانچ کروڑ ڈالرز ماہانہ فلسطینی اتھارٹی کو دینے کا پابند ہے۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.