غزہ/ مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) انوائرمنٹ کوالٹی اتھارٹی نے انکشاف کیا ہے کہ جاری سال کے آغاز سے گذشتہ ستمبر کے اختتام تک قابض اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں کی طرف سے مغربی کنارے میں انجام دیے گئے 760 منظم ماحولیاتی حملوں کو دستاویز کیا گیا ہے، جس کے ساتھ ساتھ غزہ پٹی پر جاری نسل کشی کی جنگ سے وسیع پیمانے پر ماحولیاتی تباہی پھیلی ہے، جو کہ درجنوں ملین ٹن ملبہ جمع ہونے اور زرعی زمینوں اور نباتاتی احاطے کے وسیع رقبے کی تباہی کی صورت میں سامنے آئی ہے۔
اتھارٹی نے جنگوں اور عسکری تنازعات میں ماحول کے استعمال کو روکنے کے بین الاقوامی دن کے موقع پر، جو ہر سال چھ نومبر کو آتا ہے، آج جمعہ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ قابض اسرائیل کے حملوں میں زرعی زمینوں اور قدرتی تحفظ گاہوں کو بلڈوز کرنا، درختوں کو اکھاڑنا، فصلوں کو نظرِ آتش کرنا، پانی کے وسائل، آبپاشی کے نیٹ ورکس اور سیوریج کو تباہ کرنا شامل تھا، اس کے علاوہ خطرناک کچرے کا پھینکنا بھی شامل تھا۔
غزہ میں ماحولیاتی نسل کشی
انوائرمنٹ کوالٹی اتھارٹی نے قابض اسرائیل کی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہی کی وجہ سے غازہ پٹی میں ایک وسیع ماحولیاتی اور انسانی تباہی سے خبردار کیا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ 61 سے 68 ملین ٹن کے درمیان ملبہ اور منہدم عمارتیں جمع ہو چکی ہیں، جو کہ فی مربع میٹر 107 کلوگرام ملبے کے تناسب سے ہے۔
اس نے بیان کیا کہ اس ملبے میں تقریباً چار ملین ٹن خطرناک کچرا شامل ہے اور کم از کم 50 ہزار ٹن ایسبسٹاس کا مادہ شامل ہے، اس کے علاوہ 100 ہزار ٹن سے زائد دھماکہ خیز مواد، بارود اور سفید فاسفورس کے بقایا جات شامل ہیں۔
بیان کے مطابق نسل کشی کی اس جنگ کے نتیجے میں 82 فیصد زرعی زمینیں، اور 97 فیصد پھل دار اور زیتون کے درخت تباہ اور بلڈوز ہو چکے ہیں، جبکہ 95 فیصد نباتاتی احاطہ ختم ہو چکا ہے اور وادی غزہ کی قدرتی تحفظ گاہ، جو پرندوں کی ہجرت کا راستہ تشکیل دیتی تھی، سیوریج کے پانی کی وجہ سے ایک آلودہ علاقے میں تبدیل ہو چکی ہے۔
پانی اور سیوریج کے شعبے میں، جنگ نے 84 فیصد بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے روزانہ تقریباً 120 ہزار مکعب میٹر مضر صحت سیوریج کا پانی سڑکوں اور آبی حوضوں میں رسنے اور پمپ ہونے کا سبب بنا ہے، اور بیماریوں و وباؤں کے پھیلاؤ کی شرح میں اضافہ ہوا ہے؛ کیونکہ جنگ سے پہلے کے عرصے کے مقابلے میں مائلڈ اسہال کے کیسز میں 36 گنا، اور یرقان میں 384 گنا اضافہ ہوا ہے۔
مغربی کنارے میں 760 حملے
مغربی کنارے میں خلاف ورزیوں کی سطح پر، اتھارٹی کی رپورٹ نے زرعی زمینوں اور قدرتی تحفظ گاہوں کو نشانہ بنانے والے 203 حملوں کا اندراج ظاہر کیا ہے، جن میں زیتون کے کھیتوں کو بلڈوز کرنا، یہودی آباد کاری کی سڑکیں بنانا، اور عسکری اغراض یا نام نہاد اسرائیلی آثارِ قدیمہ کے قانون کے بہانے ہزاروں دونم زمین پر قبضہ کرنا شامل تھا۔
ان حملوں میں چرواہوں کے لیے یہودی آباد کاری کے مراکز قائم کرنے کے لیے زمینوں کو باڑ لگانا، زرعی گرین ہاؤسز کو جلانا اور پلاسٹک کے گھروں کو تباہ کرنا بھی شامل تھا۔
جنگلاتی ثروت اور نباتاتی احاطے کی فائل میں، رپورٹ نے 178 حملوں کو دستاویز کیا ہے جو ہزاروں پھل دار اور قدیم درختوں کو اکھاڑنے کی صورت میں سامنے آئے، جن میں ستمبر کے اختتام تک زیتون کے تقریباً 100 ہزار درخت شامل ہیں، جن کے نقصانات کا تخمینہ 67 ملین ڈالر لگایا گیا ہے، اس کے علاوہ گیس بموں اور پٹرول بموں کے استعمال کے ذریعے گندم اور جو کے کھیتوں کو نظرِ آتش کرنا شامل تھا۔
جہاں تک خطرناک کچرے اور منہدم کرنے کے بقایا جات کا تعلق ہے، اتھارٹی نے 185 حملوں کا اندراج کیا ہے جو عمارتوں کی ڈھاہنے اور دھماکوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں دھاتوں اور پلاسٹک سے ملے ہوئے تعمیراتی بقایا جات اور ملبے کے ہزاروں ٹن جمع ہونے سے متعلق تھے، بالخصوص جنین اور طولکرم کی گورنریوں اور ان کے کیمپوں میں، اس کے علاوہ مختلف اضلاع میں رہائشی، تجارتی، صنعتی اور زرعی تنصیبات کو نشانہ بنانا شامل تھا۔
ایک متعلقہ سیاق و سباق میں کنٹرول اور تفتیش کے عملے نے سنہ 1948ء کی سرزمین سے خطرناک کچرا اسمگل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا، جن میں 40 ہزار کلوگرام سڑکوں کا کچرا جسے لکویڈ اسفالٹ کہا جاتا ہے، اور 1,816 کلوگرام خطرناک طبی کچرا اور معیاد ختم شدہ مواد شامل تھا، جس کا مقصد قلقلیہ اور طولکرم کی گورنریوں میں ان کو دفن کرنا تھا۔
حملوں نے غذائی تحفظ اور حیوانی ثروت کو بھی زک پہنچائی، جہاں اتھارٹی نے 52 حملوں کو رصد کیا جن میں مویشیوں کے مہمات کی چوری، اور کھیتوں میں یہودی آباد کاروں کے مویشیوں کو چھوڑ کر فصلوں کو خراب کرنا اور چرواہوں کا تعاقب کرنا شامل تھا۔
پانی کے وسائل اور بنیادی ڈھانچے پر حملے
پانی کے وسائل سے متعلق معاہملات میں، اتھارٹی نے کنوؤں اور پانی پر 37 حملوں کو دستاویز کیا، جن میں پانی جمع کرنے کے کنوؤں، آرٹیشین کنوؤں اور زرعی کنوؤں کو کنکریٹ سے یا بلڈوزروں کے استعمال سے بند کرنا، اور چشموں و پانی کے ٹینکوں کو تباہ کرنا اور ان میں سے متعدد پر قبضہ کرنا شامل تھا۔
اس کے علاوہ اس نے پانی کی نقل و حمل کی لائنوں اور آبپاشی کے نیٹ ورکس پر 35 حملوں کا شمار کیا، جن میں ذنابہ، نور شمس کیمپ اور طوباس میں لائنوں کو بلڈوز اور تباہ کرنا، اور خلة الفرن کے علاقے بیرین کو پانی فراہم کرنے والی بنیادی لائن کو تباہ کرنا شامل تھا، جس نے تقریباً 450 شہریوں کو پانی سے محروم کر دیا، اس کے ساتھ ساتھ أدقيقة گاؤں کی لائن کو کاٹنا شامل تھا، جس کے نتیجے میں الخلیل گورنری میں 700 شہری پانی سے محروم ہو گئے۔
رپورٹ نے سیوریج کے نیٹ ورکس پر پانچ حملوں کا اندراج کیا، جن کے نتیجے میں جنین اور طولکرم کی گورنریوں کے کیمپوں میں نیٹ ورکس تباہ ہوئے اور آلودہ پانی کی نکاسی رک گئی۔
ان خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ شعاریہ تکفا اور ارانیت کی یہودی آبادیوں سے بغیر معالجاتی سیوریج کے پانی کو عزون عتمہ اور قلقلیہ کی زمینوں اور سکولوں کے صحنوں کی طرف پمپ کرنا، اور سیپٹک ٹینکوں کو بلڈوز کرنا شامل تھا، جس کے نتیجے میں مٹی اور زیرِ زمین پانی آلودہ ہوا اور تعفن پھیلا۔
ماحولیاتی جنگی جرائم اور بین الاقوامی مطالبات
انوائرمنٹ کوالٹی اتھارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ دستاویز کردہ اور منظم ماحولیاتی خلاف ورزیاں، اس کی تعریف کے مطابق، ماحولیاتی جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں، اور انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے روم اسٹیٹیوٹ کی دفعہ 8، چوتھے جنیوا کنونشن کے پروٹوکولز اور سنہ 1977ء کے پہلے اضافی پروٹوکول کی خلاف ورزی تشکیل دیتی ہیں۔
اس نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی ماحول قابض اسرائیل کی تباھی پر مبنی پالیسیوں کا براہِ راست ہدف بن چکا ہے، جو انسانی زندگی کے مقومات کو خطرے میں ڈالتا ہے اور فلسطینی سرزمین کے قدرتی و تاریخی معالم کو زک پہنچاتا ہے۔
اتھارٹی نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حوالے سے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے، اور قابض اسرائیل کے خاتمے کے لیے کام کرے اور فلسطینیوں کو اپنے حقِ خودارادیت کے استعمال اور اپنے قدرتی وسائل میں تصرف کرنے، ان کی حفاظت اور صیانت کرنے کے قابل بنائے۔