• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
ہفتہ 7 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

غزہ جنگ بندی معاہدہ کسی بھی وقت ختم ہوسکتا ہے: ترک صدر

ہفتہ 07-11-2026
in خاص خبریں, عالمی خبریں, غزہ
0
غزہ جنگ بندی معاہدہ کسی بھی وقت ختم ہوسکتا ہے: ترک صدر
0
SHARES
0
VIEWS

استنبول – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوآن نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جس معاہدے تک پہنچنے اور اس پر دستخط کرنے میں ان کے ملک نے اپنا کردار ادا کیا تھا، اس پر زمین پر عمل درآمد نہیں ہو رہا اور قابض اسرائیل کی طرف سے مسلسل خلاف ورزیاں امن کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور خطے میں مزید تنازعات کو بھڑکانے کا سبب بن رہی ہیں۔

استنبول شہر میں "ٹی آر ٹی ورلڈ” فورم کے دسویں ایڈیشن کی افتتاح کے دوران اردوآن نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدات اور معاہدوں کا احترام نہ کرنا بحرانوں کے حل تک پہنچنے کو ناممکن بنا دیتا ہے۔ انہوں نے سکیورٹی اور استحکام کی حفاظت اور فلسطینیوں کے خلاف پامالیوں کو روکنے میں اپنے ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے متعلق عالمی اداروں کی ناکامی پر شدہد تنقید کی۔

ترکیہ کے صدر کے یہ بیانات ترک انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن کی جانب سے غزہ معاہدے کے نفاذ میں رکاوٹوں کی تفصیلات کو ظاہر کرنے کے عین مطابق آئے ہیں، جو 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو مصر کے شہر شرم الشیخ میں ترکیہ، قطر، مصر اور امریکہ کی شرکت سے طے پایا تھا۔

معاہدے کی دفعات عمل درآمد سے محروم

قالن نے وضاحت کی کہ اس معاہدے میں کئی عہد شامل تھے، جن میں سب سے پہلے عسکری آپریشنز کا بند ہونا، یرغمالیوں اور اسیران کی رہائی اور روزانہ 500 سے 600 امدادی ٹرکوں کا داخلہ شامل تھا، تاکہ قابض اسرائیلی فوج کا انخلاء، پٹی کے لیے ایک فلسطینی انتظامیہ کی تشکیل، ایک بین الاقوامی سکیورٹی فورس کی تعیناتی اور دوبارہ تعمیرِ نو کا آغاز ممکن ہو سکے۔

تاہم ترکیہ کے اس عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان میں سے بیشتر دفعات کو نافذ نہیں کیا جا سکا ۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ معاہدے پر دستخط کے بعد سے قابض اسرائیلی حملوں میں 1800 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو واپس کیا جا چکا تھا۔

ترکیہ کے موقف کے مطابق یہ حقائق اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ معاہدے میں شامل نکات اور غزہ کی میدانی صورتِ حال کے درمیان ایک بڑا خلا موجود ہے، جہاں جنگ بندی کی وجہ سے نہ تو حملے رکے ہیں اور نہ ہی حالات کو بحالی اور تعمیرِ نو کے مراحل میں منتقل کرنے کی فضا قائم ہو سکی ہے۔

قابض اسرائیل کا کنٹرول اور غزہ انتظامیہ کا معطل ہونا

میدانی صورتِ حال کے حوالے سے قالن نے کہا کہ قابض اسرائیل اب بھی غزہ کے تقریباً 60 فیصد رقبے پر قابض ہے، جبکہ معاہدے کے مطابق انسانی امداد کی آمد میں طے شدہ اضافہ ممکن نہیں ہو سکا، حالانکہ اس کے کہ جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی انسانی تباہی کے پیشِ نظر اس کی شدید ضرورت ہے۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ غزہ کے انتظامی امور کو سنبھالنے کے لیے مقرر کردہ قومی کمیٹی اب بھی مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں موجود ہے اور غزہ میں داخل ہونے اور اپنے فرائض سنبھالنے کے لیے ضروری منظوریوں اور سکیورٹی ضمانتوں کا انتظار کر رہی ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ حائل زون میں جس بین الاقوامی سکیورٹی فورس کو تعینات کیا جانا تھا، وہ قابض اسرائیل کے مسلسل حملوں کے باعث تعینات نہیں ہو سکی، جبکہ اندازوں کے مطابق غزہ میں 65 فیصد عمارتیں اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہونے کے باوجود تعمیرِ نو کی کوششیں شروع نہیں ہو سکیں۔

یہ تمام امور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معاہدے کا اگلا مرحلہ کس قدر شدید تعطل کا شکار ہے، کیونکہ معاملہ صرف حملوں کے تسلسل تک محدود نہیں ہے، بلکہ ان انتظامی، سیکیورٹی اور انسانی انتظامات کی معطلی تک پھیلا ہوا ہے جن کا مقصد پٹی کو جنگ کی حالت سے نکال کر استحکام اور دوبارہ تعمیر کی طرف لے جانا تھا۔

فلسطینیوں کی طرف سے معاہدے کی پابندی، اسرائیل قصور وار

ایک اہم پیش رفت کے طور پر ترکیہ کی انٹیلی جنس کے سربراہ نے انکشاف کیا کہ اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس’ نے غزہ کی انتظامی حکومت میں شامل نہ ہونے اور ہتھیاروں کی سپردگی پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ انہوں نے اسے ایک سیاسی قربانی اور تاریخی پیش رفت قرار دیا۔

تاہم انہوں نے اشارہ کیا کہ ان اقدامات کے جواب میں قابض اسرائیل کی طرف سے معاہدے میں درج اپنے عہدکے نفاذ کے لیے کوئی مماثل اقدامات نہیں کیے گئے، جس سے اس کے مراحل کو مکمل کرنے کے امکانات پر دوبارہ سوالات اٹھ رہے ہیں، بالخصوص جب کہ قابض اسرائیل کا کنٹرول برقرار ہے اور فلسطینی انتظامیہ و بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کا داخلہ معطل ہے۔

ترکیہ کے اس نقطہ نظر کے مطابق یہ حقائق واضح کرتے ہیں کہ بحران کا تعلق صرف اگلے مرحلے کی ترتیبات پر اتفاق رائے سے نہیں ہے، بلکہ معاہدے کے متوازن نفاذ کی عدم موجودگی اور ایسے میدانی حقائق کو مسلط کرنے سے ہے جو نئے مرحلے میں منتقل ہونے سے روکتے ہیں۔

اردوآن: بین الاقوامی نظام غزہ کے واقعات کا تماشائی بنا ہوا ہے

دوسری جانب اردوآن نے عالمی اداروں پر اپنے تنقیدی حملوں میں شدت لاتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی نظام ایک گہرے ڈھانچہ جاتی بحران سے گزر رہا ہے، وہ ادارے جن کا کام امن، سکیورٹی اور استحکام کی حفاظت کرنا ہے غزہ میں پیش آنے والے واقعات کو صرف خاموشی سے دیکھنے پر اکتفا کر رہے ہیں۔

ترکیہ کے صدر نے قابض اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے دوہرے معیار پر تنقید کی اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ عالمی ادارے غزا میں ہونے والی سفاکیت پر بالکل اسی طرح خاموش تماشائی بنے رہے جیسے ماضی میں روانڈا اور سریبیرینٹسا کے واقعات میں بنے رہے تھے۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک فلسطینیوں کی حمایت پر مبنی اپنے موقف سے کسی بھی دباؤ یا منفی مہمات کے باوجود پیچھے نہیں ہٹے گا، اور فلسطینی حقوق کا دفاع کرنے اور ایک زیادہ عادلانہ اور آزاد دنیا کے قیام کے لیے کام جاری رکھنے کے عزم کو دہرایا۔

اکتوبر کے دوران مغربی کنارے میں 3 ہزار سے زائد پامالیاں

اردوآن کی تنبیہات صرف غزہ تک محدود نہیں تھیں، بلکہ انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے مظالم کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ‘یہودی آباد کاروں کی غنڈہ گردی’ عالمی برادری کی آنکھوں کے سامنے روز بروز شدید ہوتی جا رہی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ان حملوں کا مقصد فلسطینیوں کو ان کی صدیوں پرانی آبائی زمینوں سے زبردستی بے دخل کرنا ہے، صرف گذشتہ اکتوبر کے مہینے میں مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف 3 ہزار سے زائد حملے اور پامالیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

ترکیہ کے موقف کے مطابق یہ حالات مغربی کنارے کو بڑھتے ہوئے چیلنجز کے سامنے لا رہے ہیں، کیونکہ فلسطینیوں، ان کی جائیدادوں اور زمینوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کے ساتھ ساتھ زبردستی بے دخلی اور غصبانہ بستیوں کی توسیع کے خطرات جڑے ہوئے ہیں۔

اسرائیلی تسlط کا خاتمہ ہی امن کی واحد شرط

سیاسی تصفیے کے مستقبل کے حوالے سے قالن نے اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیل کا تسلط برقرار رہنا شدت پسندی اور تشدد کی نئی لہروں کو جنم دے سکتا ہے، انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ دیر پا امن اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ قابض دشمن کا خاتمہ نہ ہو اور سنہ 1967ء کی سرحدوں پر مشتمل ایک فلسطینی ریاست قائم نہ کی جائے جس کا دارالحکومت ‘مشرقی القدس’ ہو۔

انہوں نے دو ریاستی حل کی حمایت کے لیے ترکیہ کی کوششوں کے تسلسل پر زور دیا اور اس بات کو واضح کیا کہ صرف عسکری آپریشنز کا رکنا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ ایک ایسے حقیقی امن کا قیام ضروری ہے جو انصاف اور فلسطینی حقوق کی ضمانت پر مبنی ہو۔

ترکیہ کے یہ بیانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ غزا معاہدہ ایک حقیقی امتحان کا شکار ہے، کیونکہ اس کی بنیادی دفعات پر عمل درآمد رک چکا ہے اور قابض اسرائیل کی پامالیاں جاری ہیں، جس سے یہ خدشہ پیدا ہو رہا ہے کہ معاہدہ صرف ایک سیاسی اعلان بن کر رہ جائے گا جس کا زمین پر کوئی عملی ترجمہ نہ ہو، اور یہ صورتِ حال ثالثوں پر دباؤ ڈالنے کی ذمہ داری عائد کرتی ہے تاکہ تعہدات کا نفاذ ممکن بنایا جا سکے اور ان مفاہمتوں کو ناکام ہونے سے بچایا جا سکے۔

Tags: #TurkeyCeasefireThreatGazaAgreementGazaCeasefireIsraeliAttackspalestineTurkishPresident
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.