مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن نے جمعہ کے روز قابض اسرائیلی افواج اور یہودی آباد کاروں کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے چھ اضلاع میں زیتون کی چنائی کے موسم کے دوران فلسطینی کسانوں اور ان کی زمینوں کے خلاف کی جانے والی 20 پامالیوں کو دستاویز کیا ہے، جو کہ صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک کے عرصے میں پیش آئیں۔
ان مظالم میں شہریوں، ‘یکجہتی کارکنوں’ اور صحافیوں کی گرفتاری، زیتون چننے والوں پر تشدد، درختوں کو اکھاڑنا، زرعی زمینوں کو بلڈوز کرنا، فصلوں اور جائیدادوں کی چوری اور کسانوں کو ان کے کھیتوں تک پہنچنے سے روکنا شامل تھا، جس کے ساتھ ساتھ زیتون کے درختوں والی زمینوں کے اندر غاصبانہ بستیوں کی توسیع اور نئی تنصیبات کی تعمیر کا کام بھی جاری رہا۔
رام اللہ میں گرفتاری اور زیتون چننے والوں پر مظالم
رام اللہ والبیر ہ میں قابض افواج نے رام اللہ کے مغرب میں واقع گاؤں کفر نعمہ میں جبل الریسان کے قریب السلم کے علاقے میں زیتون کی چنائی میں حصہ لینے کے دوران 17 افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں 12 غیر ملکی ‘یکجہتی کارکن’، دو غیر ملکی صحافی اور تین فلسطینی شامل تھے۔
یہ گرفتاریاں قابض افواج کی موجودگی میں یہودی آباد کاروں کے کسانوں، ‘یکجہتی کارکنوں’ اور صحافیوں پر حملے کے بعد عمل میں آئیں، جس کے بعد قابض افواج نے گرفتار شدگان کو اپنے ایک فوجی کیمپ منتقل کر دیا۔
گرفتار فلسطینیوں میں رام اللہ میں مہم کی کوآرڈینیٹر ہالہ ابو غربیہ اور دو کسان یعقوب عطایہ اور محمد عطایہ شامل ہیں۔
ابو فلاح گاؤں میں قابض فوج نے درجنوں غیر ملکی ‘یکجہتی کارکنوں’ اور متعدد صحافیوں کو گاؤں چھوڑنے پر مجبور کیا، اور کسانوں کو گاؤں کے مشرق میں حیط المیرمیہ کے علاقے میں زیتون کی چنائی جاری رکھنے سے روک دیا۔
اس کے علاوہ یہودی آباد کاروں نے دیر عمار میں زرعی زمینوں پر حملہ کیا اور ان کے مالکان کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیا، جبکہ مسلح یہودی آباد کاروں نے عابود گاؤں کے کسانوں کا اس وقت راستہ روکا جب وہ دیر ابو مشعل کے قریب الضحاضیح کے علاقے کی طرف جا رہے تھے، اور انہیں اپنی زمینوں تک پہنچنے یا اپنے گھروں کو واپس لوٹنے سے روکا، قبل اس کے کہ دیر ابو مشعل کے رہائشی ان کی مدد کر کے ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بناتے۔
سنجل کے قصبے میں یہودی آباد کاروں نے زرعی زمینوں میں اپنی مویشی چھوڑ دیے، جبکہ قابض افواج نے المگیر قصبے کی زمینوں پر دھاوا بول کر رہائشیوں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا اور انہیں زیتون چننے سے روک دیا، جس کے ساتھ ہی یہودی آباد کاروں نے بھی اپنے مویشی کھیتوں میں چھڈ دیے۔ برقا گاؤں میں یہودی آباد کاروں نے شہریوں کی زرعی زمینوں سے لوہے کے پترے چوری کر لیے۔
الخلیل میں درختوں کا اکھاڑنا اور صحافی پر تشدد
الخلیل میں یہودی آباد کاروں نے یطا کے مشرق میں حوارہ کے علاقے میں شہریوں کے کھیتوں اور زیتون کے درختوں کے درمیان اپنے مویشیوں کے ریوڑ چھوڑ دیے، اور جب شہری خلیل محمود الحمامدہ اور ان کے بیٹے عمر نے ان کو روکنے کی کوشش کی، تو قابض افواج نے علاقے پر دھاوا بول کر اس واقعے کے دوران گرفتاری عمل میں لائی۔
الخلیل کے جنوب میں واقع بیت عوا کے قصبے میں قابض دشمن کے بلڈوزر نے شہریوں کی زمینوں سے زیتون کے درختوں کو اکھاڑ پھینکا، جس کے ساتھ ہی قابض افواج اور یہودی آباد کاروں نے صحافی مصعب شاور پر تشدد کیا، اور پھر انہیں ہتھکڑیاں لگا کر اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر گرفتار کر لیا، نیز انہوں نے شہری ایاد سلیطی پر بھی تشدد کیا۔
سعیر قصبے کے مشرق میں حمروش کے علاقے میں یہودی آباد کاروں نے کسانوں پر اس وقت حملہ کیا جب وہ اپنی زمینوں میں موجود تھے۔
نابلس میں فصلوں کی چوری اور کسانوں کو روکنا
نابلس میں یہودی آباد کاروں نے مسعودیہ کے علاقے پر دھاوا بول کر شہری فادی مسعود کے فارم سے زیتون کے پھل چوری کر لیے، جبکہ قابض افواج نے شہر کے شمال میں جبل عیبال کے قریب زیتون چننے کے دوران دو نوجوانوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا، قبل اس کے کہ انہیں رہا کیا جاتا اور وہ علاقے سے نکل جاتے۔
گورنری کے مشرق میں بیت فوریک قصبے میں قابض افواج نے زرعی زمینوں پر دھاوا بول کر کسانوں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا اور انہیں چنائی جاری رکھنے سے روک دیا۔
صرہ کے میدان میں یہودی آباد کاروں نے رہائشی سامان کو شیڈز کی قسم کے تنصیبات میں منتقل کیا جن پر انہوں نے پہلے قریوت کے علاقے سے قبضہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں کسانوں کو میدان میں داخل ہونے اور اپنی زمینوں تک پہنچنے سے روک دیا گیا۔
قلقیلیہ میں ایک نئی غاصبانہ بستی کا قیام
قلقی لیہ میں یہودی آباد کاروں نے جینصافوط گاؤں کے مغرب میں البقیع کے علاقے میں زیتون کے درختوں سے بھری زمینوں کے اندر "رامات جلعاد” نامی آباد کاری کے قریب ایک خیمہ نصب کیا، جو فلسطینی زرعی زمینوں کے اندر ایک نئے غصبانہ قبضے کو قائم کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
بیت لحم میں مظالم کے حوالے سے قابض افواج نے گورنری کے مغرب میں "بیتار” بستی کی خاطر زیتون کے درختوں والی زمینوں میں توسیع کا کام انجام دیا، اور تقوع قصبے کے تمام راستوں کو بند کر دیا، جس سے کسانوں کی اپنی زمینوں تک رسائی میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور معمول کے مطابق چنائی کے کام کی انجام دہی ناممکن ہو گئی۔
سلفیت میں زرعی زمینوں کو بلڈوز کرنا اور چنائی پر پابندی
سلفیت میں قابض افواج نے شہر کے مغرب میں برقین قصبے کے الوادات علاقے میں کسانوں اور ‘یکجہتی کارکنوں’ کو زیتون چننے سے روکا، اور شہری علاء عبد الرحمن کے خاندان کو ان کی زمین چھوڑنے پر مجبور کیا۔
اسکاکا گاؤں میں یہودی آباد کاروں نے "نوفیہ نحمیا” بستی کے قریب جنوب مشرقی علاقے کی زرعی زمینوں پر دھاوا بولا، جبکہ قابض افواج نے قراوہ بنی حسان قصبے میں زیتون کے درختوں والی زمینوں کو بلڈوز کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔
وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن نے اس بات کی تصدیق کی کہ آج کے مظالم اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ زیتون کے موسم کو نشانہ بنانے کا عمل کسانوں اور ان کی فصلوں پر براہِ راست حملے سے منتقل ہو کر ان کے ساتھ کھیتوں میں موجود سول پروٹیکشن اور مددگار نیٹ ورکس کے تعاقب تک پہنچ چکا ہے۔
کمیشن نے اشارہ کیا کہ کفر نعمہ میں بین الاقوامی ‘یکجہتی کارکنوں’ اور صحافیوں کی گرفتاری، ابو فلاح میں ‘یکجہتی کارکنوں’ کو جانے پر مجبور کرنا، اور بیت عوا میں صحافی مصعب شاور پر تشدد ایسے اقدامات ہیں جن کا مقصد یہودی آباد کاروں کے مظالم کا شکار زرعی علاقوں میں سول اور میڈیا کی موجودگی کو محدود کرنا، اور کسانوں کی محفوظ حالات میں اپنی زمینوں تک رسائی کی صلاحیت کو کم کرنا ہے۔
کمیشن نے اس بات پر زور دیا کہ ان مظالم کا جینصافوط میں غصبانہ خیمے کی تنصیب، صرہ کے میدان میں رہائشی تنصیبات کی منتقلی، "بیتار” بستی کی توسیع، اور قراوہ بنی حسان میں زمینوں کو بلڈوز کرنے کے ساتھ ساتھ ہونا، میدانی سطح پر یہودی آباد کاروں کی غنڈہ گردی اور فلسطینی زرعی زمینوں پر مستقل کنٹرول مسلط کرنے کی کوششوں کے آپسی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
کمیشن نے انتباہ کیا کہ کسانوں کو ان کی زمینوں تک پہنچنے سے روکنا، اور اس کے ساتھ ساتھ زمینوں کے اندر یا گرد و پیش میں غصبانہ موجودگی کو مستحکم کرنا، فصلوں کی موسمی محرومی کو زمین سے طویل المدت بے دخلی میں تبدیل کرنے کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔
کمیشن نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض افواج اور یہودی آباد کاروں کے مظالم کو روکنے کے لیے مداخلت کرے، کسانوں، ‘یکجہتی کارکنوں’ اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کرے، اور فلسطینیوں کے کسی بھی خطرے یا حملے کے بغیر اپنی زمینوں تک محفوظ رسائی اور ان کے استعمال کے حق کو یقینی بنائے۔