رام اللہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے رام الله کے مغرب میں واقع بیت عور چیک پوسٹ کے قریب پیش آنے والی گاڑی چڑھانے کے واقعے کو سراہتے ہوئے اسے یہودی آباد کاروں اور قابض رہنماؤں کی بدمعاشی اور فلسطینی عوام کے خلاف ان کی مسلسل زیادتیوں کا فطری ردعمل قرار دیا ہے۔
جماعت نے ایک اخباری بیان میں بتایا کہ یہ کارروائی یہودی آباد کاروں کی طرف سے مسجد اقصی پر بار بار کے دھاووں اور اسلامی مقدسات کی بے حرمتی کے جواب میں سامنے آئی ہے،ان مسلسل زیادتیوں کا جواب ضرور دیاجائے گا۔
’حماس‘ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قابض دشمن کے جرائم اور اس کے یہودی آباد کاروں کے جتھوݪوں کے اقدامات اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں اور ان کی زمینوں کے خلاف جاری پے در پے پامالیاں اسے صرف مزید ناکامیوں اور ضربوں سے دوچار کریں گی۔
حماس نے مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے حریت پسند فلسطینی عوام اور غیور نوجوانوں کو دعوت دی کہ وہ مقبوضہ سرزمین کے مختلف حصوں میں قابض دشمن اور اس کے یہودی آباد کاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر ممکن شکل اور وسائل کے ساتھ مزاحمت کو مزید تیز کریں۔
مغربی کنارے کے وسط میں واقع مکابیم فوجی چیک پوسٹ کے قریب گاڑی کی ٹکر سے ایک یہودی آباد کار شدید زخمی ہو گیا، جبکہ واقعے کے فورا بعد قابض فوج نے رام الله اور البیرہ گورنری کے تمام داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے، حملہ آور کی شہادت کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
فلسطینی وزارتِ صحت نے رام الله کے مغرب میں واقع گاؤں بیت عور التحتا کے قریب قابض فوج کی فائرنگ سے 29 سالہ نوجوان محمود محمد محمود سليمان کی شہادت کا اعلان کیا ہے۔