حال ہی میں ٹرمپ کی سربراہی میں امریکی حکومت نے اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کو 2.8 ارب ڈالر مالیت کے نئے بم فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کھیپ میں 2 ہزار پاونڈ وزنی 40 ہزار بم اور 20 ہزار دیگر بم شامل ہیں۔
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) حال ہی میں ٹرمپ کی سربراہی میں امریکی حکومت نے اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کو 2.8 ارب ڈالر مالیت کے نئے بم فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کھیپ میں 2 ہزار پاونڈ وزنی 40 ہزار بم اور 20 ہزار دیگر بم شامل ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل کے فوجی اور جنگی اخراجات کیسے فراہم ہوتے ہیں؟ اس کھیپ کے بارے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور فی الحال اس کا بل کانگریس میں پیش کیا گیا ہے۔ ایسی فوجی امداد کے اخراجات زیادہ تر امریکہ کے ٹیکس دہندگان شہریوں سے لیے جاتے ہیں۔ البتہ اسرائیل کے پاس اپنے فوجی اور جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے اور بھی ذرائع موجود ہیں جن میں اسرائیلی شہریوں سے حاصل ہونے والے ٹیکس، ٹیکنالوجی کی صنعت، برآمدات، فوجی مصنوعات، قدرتی گیس اور سرمایہ کاری شامل ہیں۔
ایک ہی وقت میں کئی محاذوں پر طویل المیعاد جنگوں کے لیے جہاں فوجی سازوسامان اور اسلحہ کی ضرورت ہوتی ہے وہیں بھاری اخراجات پورے کرنے کے لیے مالی ذرائع کی دستیابی بھی انتہائی اہم مسئلہ ہے۔ اسرائیل اس مقصد کے لیے اندرونی ذرائع، قرضوں کی وصولی اور امریکہ سے حاصل ہونے والی فوجی امداد پر انحصار کرتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کی جانے والی فوجی اور مالی امداد براہ راست امریکی عوام سے وصول کی جاتی ہے۔ یوں اسرائیل کی جنگ پسند پالیسیوں اور جارحانہ اقدامات کا بوجھ براہ راست امریکی شہریوں پر پڑتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان طے پائے دس سالہ معاہدے کی روشنی میں امریکہ نے 2019ء سے 2028ء کے درمیان اسرائیل کو سالانہ 3.3 ارب ڈالر فوجی امداد اور 500 ملین ڈالر مشترکہ میزائل ڈیفنس سسٹم کی مد میں فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد زیادہ تر امریکی ساختہ اسلحہ اور فوجی سازوسامان کی صورت میں ہوتی ہے جس کے باعث امریکی عوام اور ٹیکس دہندگان کا یہ پیسہ امریکہ کی اسلحہ ساز فیکٹریوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اس طرح ایک طرف تو امریکہ کی اسلحہ ساز کمپنیاں بھاری منافع حاصل کرتی ہیں جبکہ اسرائیل کی جنگی مشینری میں بھی نئی روح پھونک دی جاتی ہے اور وہ خطے میں جنگ کی آگ جلاتا رہتا ہے۔ ایک طرح سے دیکھا جائے تو امریکی شہریوں سے حاصل ہونے والے ٹیکس بالواسطہ طور پر مغربی ایشیا خطے میں جنگی اور تسلط پسندانہ اقدامات کی مالی حمایت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس کی اہمیت اس وقت مزید ابھر کر سامنے آتی ہے جب ہم اسرائیل کی اسلحہ درآمدات کا جائزہ لیتے ہیں۔
اسٹاک ہوم ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار پیس کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق امریکہ نے 2021ء سے 2025ء کے درمیان اسرائیل کی جانب سے اسلحہ اور فوجی سازوسامان کی درآمدات کا 68 فیصد حصہ فراہم کیا ہے۔ اسی طرح جرمنی بھی اسرائیل کو ان درآمدات کا 31 فیصد حصہ فراہم کر کے دوسرے نمبر پر ہے۔ اسرائیل کا اسلحہ اور فوجی سازوسامان کے شعبے میں امریکہ پر انحصار بعض مصنوعات میں زیادہ شدید ہے جن میں جنگی طیارے اور جدید ترین بم شامل ہیں۔ حال ہی میں کانگریس میں پیش کیا گیا بل بھی ٹھیک اسی زمرے میں آتا ہے۔ فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی جانب سے اس نئی کھیپ میں 20 ہزار ایم کے 84 بم، 20 ہزار بی ایل یو 117 بم اور 20 ہزار آئی 2000 بم شامل ہیں۔ لہذا اسرائیل کی جنگی اور فوجی ضروریات کا بڑا حصہ امریکہ کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے۔
اسرائیل کو فراہم کی جانے والی اس فوجی امداد کے اخراجات امریکہ کے عمومی بجٹ، وائٹ ہاوس کے فیصلوں اور امریکہ کی اسلحہ ساز کمپنیوں کی جانب سے فراہم ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کو خطے میں اسرائیل کی بربریت اور قتل و غارت میں براہ راست شریک قرار دیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، اسرائیل اپنے جنگی اخراجات کی فراہمی کے لیے اندرونی ذرائع اور قرضوں کی وصولی کا بھی استعمال کرتا ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم شعبہ ٹیکنالوجی کا شعبہ ہے۔ گذشتہ چند سالوں کے دوران اسرائیل کی معیشت کا ایک اہم حصہ ٹیکنالوجی مصنوعات کی برآمدات سے حاصل ہوتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2025ء میں اسرائیل کو ٹیکنالوجی مصنوعات سے 352 ارب شیکل آمدن ہوئی تھی جو اس کی کل جی ڈی پی کا 18.3 فیصد حصہ ہے۔ اسی ان مصنوعات کی برآمدات سے اسرائیل کو 85 ارب ڈالر کی آمدن ہوئی تھی۔
اسرائیل کے تحقیقاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل جنگوں کے باعث صنعتی تحقیقاتی مراکز میں فعالیت انجام دینے والے محققین کی تعداد میں شدید کمی ہوتی جا رہی ہے جس کے باعث ٹیکنالوجی مصنوعات کی سطح کم ہو جانے کا خطرہ پایا جاتا ہے۔ ان کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حتی اسرائیل کی کمپنیاں بھی ملک سے باہر فعالیت انجام دینے کو ترجیح دے رہی ہیں۔ یوں اسرائیل کے جنگی اور فوجی اخراجات فراہم کرنے والے اندرونی ذرائع کمزور ہوتے جا رہے ہیں اور وہ زیادہ سے زیادہ بیرونی ذرائع کا محتاج ہوتا جا رہا ہے۔ 7 اکتوبر 2023ء کے دن حماس کی جانب سے اسرائیل کے خلاف طوفان الاقصی آپریشن انجام پایا جس کے بعد اسرائیل نے خطے میں مسلسل فوجی جارحیت جاری رکھی ہوئی ہے۔ ان جنگوں نے نہ صرف اسرائیل کی معیشت بلکہ اسرائیلی معاشرے کو بھی شدید بحرانوں کا شکار کر دیا ہے۔