جنوبی لبنان میں قابض اسرائیلی جارحیت مزید شدت اختیار کرگئی، فضائی حملے اور گولہ باری جاری
جنوبی لبنان پر قابض اسرائیلی جارحیت میں مزید شدت آ گئی، جہاں فضائی حملوں، توپ خانے کی بمباری اور بھاری مشین گنوں سے سرچ آپریشنز کے ساتھ ساتھ متعدد قصبوں میں گھروں اور تنصیبات کو بارود سے اڑانے کا گھناؤنا سلسلہ جاری ہے۔
بیروت – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) جنوبی لبنان پر قابض اسرائیلی جارحیت میں مزید شدت آ گئی، جہاں فضائی حملوں، توپ خانے کی بمباری اور بھاری مشین گنوں سے سرچ آپریشنز کے ساتھ ساتھ متعدد قصبوں میں گھروں اور تنصیبات کو بارود سے اڑانے کا گھناؤنا سلسلہ جاری ہے ، جبکہ اس دوران بیروت اور تل ابیب کے درمیان مذاکراتی راستے کو درپیش میدانی اور سیاسی رکاوٹیں بھی بدستور برقرار ہیں۔
قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق قابض فوج نے بیروت اور تل ابیب کے مابین امریکہ کی سرپرستی میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے کو حتمی شکل دینے کی سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ جنوبی لبنان کے کئی سیکٹرز میں اپنی کارروائیوں میں شدید اضافہ کر دیا۔
قصبہ المنصوری میں قابض فوج نے فجر کے وقت قصبے کے اندر اور اس کے گردونواح میں متعدد رہائشی مکانات کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا، جبکہ ان دھماکوں کی آوازیں صیدا کے دیہات اور ساحل لبنان تک سنائی دیں۔ اسی طرح مجدل زون میں بھی مکانات اور گوداموں کو دھماکوں سے تباہ کرنے اور مسمار کرنے کے عمل ریکارڈ کیے گئے۔
اس کے ساتھ ساتھ قابض اسرائیلی جنگی طیاروں نے وادی زبقین پر فضائی حملے کیے، جبکہ المنصوری، مجدل زون اور ان سے متصل وادیوں کو شدید توپ خانے کی بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔
قابض فوج نے علاقے میں جاری اس کشیدگی کے تسلسل کے طور پر جنوبی لبنان کے دو قصبوں دیر سریان اور المنصوری میں دو دھماکے بھی کیے۔
یہ فضائی حملے کفرتبنین کے گردونواح اور النبطية الفوقا کے اطراف میں واقع حرج علی الطاهر تک پھیل گئے، جبکہ قابض فوج نے صربين، حداثا، ميس الجبل کے اطراف کے علاوہ وادي السلوقي اور وادی زبقین کی سمت میں بھاری مشین گنوں سے فچنگ اور سرچ آپریشنز کیے۔
یہ کشیدگی امریکہ کی سرپرستی میں 26 جون سنہ 2026ء کو طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جو جنوبی لبنان سے قابض اسرائیلی فوج کے تدریجی انخلاء کا تقاضا کرتا ہے، اور اس کے بدلے میں لبنانی فوج ان علاقوں میں تعینات ہوگی جن سے قابض فوج دستبردار ہوگی، اور یہ سب حزب اللہ کے ہتھیاروں کے خاتمے اور اس کے نفاذ کی تصدیق سے جڑے ہوئے انتظامی انتظامات کے تحت طے پایا ہے۔