رام اللہ ــ(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے رہنما محمود مرداوی نے کہا ہے کہ طولکرم گورنری میں چار تاریخی اور آثار قدیمہ کے مقامات کے خلاف قابض اسرائیل کے حالیہ اقدامات تاریخ کو مسخ کرنے اور مزید یہودی بستیوں کی توسیع کی خاطر زمین پر قبضہ کرنے کی ایک نئی سازش کی نمائندگی کرتے ہیں۔
’مرداوی‘ نے پیر کے روز ایک پریس بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ان چار مقامات کو متاثر کرنے والے فیصلے قابض ریاست کو فلسطینی زمین پر کوئی حق یا جواز فراہم نہیں کریں گے، انہوں نے یہ واضح کیا کہ تاریخی اور آثار قدیمہ کے مقامات کو نشانہ بنانا ایسی پالیسیوں کا حصہ ہے جو فلسطینی زمین، شناخت اور ورثے کو ہدف بناتی ہیں۔
’حماس‘ رہنما نے فلسطینیوں سے یہودیانے کی سازشوں کا مقابلہ کرنے پر زور دیتے ہوئے قابض حکام کو ان پالیسیوں کے تسلسل کے نتائج کا ذمہ دار قرار دیا۔
’مرداوی‘ کا ماننا ہے کہ فلسطینی عوام کی استقامت اور ثابت قدمی زمین، مقدسات اور تاریخی مقامات کو نشانہ بنانے والے اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔
حال ہی میں صہیونی فوج کے اقدامات نے طولکرم گورنری میں چار تاریخی اور آثار قدیمہ کے مقامات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جن میں وقف اراضی اور آباد گھروں والے علاقے بھی شامل ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق جن مقامات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے ان میں ارتاح کے علاقے میں مقام بنات يعقوب، طولکرم کے جنوب مغرب میں مقام النبی يعقوب، کفار کے علاقے میں تل قعدہ، اس کے علاوہ گورنری کے مشرق میں اکتابا گاؤں کے دائرے میں واقع خربہ المسقوفہ اور خلہ أبو لبن شامل ہیں۔
قابض فوج نے گذشتہ روز اتوار کو طولکرم کے جنوب میں ارتاح کے علاقے میں مقام بنات يعقوب پر دھاوا بولا، ایسے اشتہارات لٹکائے جو اس مقام کو صہیونی آثار قدیمہ کے ادارے کے دائرہ اختیار کے تابع کرتے ہیں، گورنری کے دیگر علاقوں میں بھی ایسے ہی اشتہارات لگائے گئے۔
’مقام بنات يعقوب‘ وقف کی زمین پر قائم ہے،اس کی عمارت ایک نچلے طبقے پر مشتمل ہے جو رومی دور سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ بالائی طبقہ مملوکی دور کا ہے،اس میں ایک نماز گاہ، محراب، تہہ خانہ اور دیگر آثار قدیمہ کے عناصر شامل ہیں۔
طولکرم گورنری کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ارتاح کے اپنے علاقے میں رومی اور اسلامی ادوار سمیت پے در پے تاریخی ادوار کے آثار موجود ہیں۔
فلسطینی وزارت اوقاف اور مذہبی امور نے ’مقام بنات يعقوب‘ کو صہیونی آثار قدیمہ کے ادارے کے اختیار کے ماتحت کرنے کی مذمت کی، کہا کہ یہ مقام وقف زمین پر قائم ہے، اور اس اقدام کو وقف اراضی کو نشانہ بنانے والی پالیسی کا حصہ قرار دیا، اور بین الاقوامی اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی کہ وہ اس کے تحفظ کے لیے مداخلت کریں۔
حالیہ اقدامات صرف طولکرم تک محدود نہیں ہیں، کیونکہ ستمبر کے جاری ماہ کے دوران مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں ’آثار قدیمہ کے مقام کے اعلان اور اس کی حدود کے تعین‘ کے عنوان کے تحت صہیونی نوٹس جاری کرنے کے عمل کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔
وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن واضح کرتا ہے کہ یہ نوٹس طریقہ کار کے لحاظ سے اپنے طور پر براہ راست جببر قبضے کے احکامات نہیں ہیں، لیکن یہ ان میں شامل زمین کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کرتے ہیں، عملی طور پر اس پر صہیونی فعلی تسلط مسلط کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔