• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 11 ستمبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

پینٹاگون میں بغاوت اور سمندر پر امریکی ہجمونی کا خاتمہ

امریکہ کی بری فوج کے وزیر ڈان ڈسکول کا استعفی پینٹاگون پر لگنے والا آخری دھچکہ تھا۔ وہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے انتہائی قریبی دوست تھے اور انہوں نے وزیر جنگ پیٹ ہیگسٹ سے شدید اختلافات جنم لینے کے بعد استعفی دیا تھا۔

جمعہ 11-09-2026
in خاص خبریں, مقالا جات
0
پینٹاگون میں بغاوت اور سمندر پر امریکی ہجمونی کا خاتمہ
0
SHARES
0
VIEWS

تحریر: علی احمدی

(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) 28 فروری کے دن امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جس فوجی جارحیت کا آغاز کیا وہ اس طرح "تیزرفتار فتح” پر منتج نہ ہو سکا جس کا وائٹ ہاوس نے وعدہ دے رکھا تھا۔ آج تقریباً چھ ماہ گزر جانے کے بعد پینٹاگون اپنی تاریخ کے بدترین قیادت، لاجسٹک اور اسٹریٹجی کے بحران سے روبرو ہے۔ ایران کے خلاف جنگ نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن امریکہ کے حق میں تبدیل نہ کر سکی بلکہ برعکس امریکہ کی دفاعی کمزوریاں عیاں ہو گئیں اور اعلی سطحی فوجی کمانڈرز کی جانب سے یہ جنگ جاری رکھنے کی شدید مخالفت کے باعث امریکہ کا اثرورسوخ اور ہجمونی شدید چیلنج سے روبرو ہو چکی ہے۔ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسٹ نے اس وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد فوج میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ شروع کر دی۔ اس نے امریکی فوج کے 10 فیصد اعلی سطحی فوجی افسران کو برطرف کر دیا۔

اپنے عہدوں سے برطرف ہونے والوں میں سے 60 فیصد خواتین اور امریکی افریقی افسران تھے۔ اس کا مقصد فوج سے ایسے افسران کو نکال باہر کرنا تھا جو ڈونلڈ ٹرمپ کے مکمل وفادار نہیں تھے اور مشرق وسطی سے متعلق اس کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہتے تھے۔ برطرف ہونے والے چند اعلی سطحی فوجی افسران کے نام یہ ہیں: جنرل کرس دوناہی (یورپ اور ایشیا میں امریکی فورسز کے مرکزی کمانڈر)، چارلس براون (چیف آف آرمی اسٹاف اور اس عہدے پر براجمان ہونے والے دوسرے امریکی افریقی شخص)، ایڈمرل لیزا فرینکٹی (امریکہ کی پہلی بحریہ کی خاتون سربراہ)، جنرل رینڈی جرج (چیف آف آرمی اسٹاف)، جان فلان (بحریہ کے وزیر)، ڈان ڈسکول (بری فوج کے وزیر)، ایرک سلاوین، میکس لیدر اور لارا کورٹ (فوجی میگزین کے کارکنان)۔

امریکہ کی بری فوج کے وزیر ڈان ڈسکول کا استعفی پینٹاگون پر لگنے والا آخری دھچکہ تھا۔ وہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے انتہائی قریبی دوست تھے اور انہوں نے وزیر جنگ پیٹ ہیگسٹ سے شدید اختلافات جنم لینے کے بعد استعفی دیا تھا۔ ڈیموکریٹ رہنماوں نے پیٹ ہیگسٹ پر الزام لگایا ہے کہ اس نے بڑے پیمانے پر فوج سے تجربہ کار اور ماہر جرنیلوں کو برطرف کر کے فوج کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ دوسری طرف امریکی فوج کے اعلی سطحی کمانڈرز کی بڑی تعداد نے وزیر جنگ پیٹ ہیگسٹ کو باقاعدہ خط لکھ کر ایران کے خلاف جنگ فوراً روک دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ نے ان کے اس اقدام کو "جرنیلوں کی بغاوت” کا نام دیا ہے۔ ان اعلی سطحی کمانڈرز نے واضح کیا ہے کہ طویل مدت تک جنگ جاری رکھنا اسٹریٹجک، اقتصادی اور فوجی لحاظ سے ناممکن ہے جبکہ ایسی صورت میں چین اور روس کے خلاف بھی امریکی فوج کمزور ہو جائے گی۔

امریکی فوج کے ان جرنیلوں کی پریشانی کی اصل وجہ ہیگسٹ کی شور شرابے والی سیاست نہیں بلکہ ایران کے خلاف جنگ میں موجود تلخ زمینی حقائق ہیں۔ ایران نے حال ہی میں چار خلیجی ریاستوں قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو شدید میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ بحرین جہاں امریکہ کی ففتھ فلیٹ کا مرکزی ہیڈکوارٹر ہے شدید حملوں کی زد میں آیا ہے اور امریکی فوجی اڈے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے فضائی دفاعی نظام کے میزائل بھی ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کے پیٹریاٹ میزائلوں کی کل تعداد کا 65 فیصد حصہ استعمال ہو چکا ہے۔ سی ایس آئی ایس نامی امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کے پاس 2330 پیٹریاٹ میزائل تھے جو کم ہو کر 759 سے 828 تک رہ گئے ہیں۔

دوسری طرف امریکی بحریہ بھی شدید مشکلات اور بحرانی صورتحال کا شکار ہو چکی ہے۔ امریکہ کے پاس کل 11 طیارہ بردار جنگی بحری بیڑے ہیں جن میں سے صرف تین آپریشنل ہیں۔ ان تین میں یو ایس ایس جرج بش، یو ایس ایس جرج واشنگٹن اور یو ایس ایس روزولٹ شامل ہیں۔ اس صورتحال یہ ہے کہ یو ایس ایس جرج واشنگٹن بھی ایران کی جانب سے میزائل حملوں کے بعد ایران سے 600 میل دور رہنے پر مجبور ہے۔ یہ فاصلہ اس قدر زیادہ ہے کہ بحری بیڑے پر موجود جنگی طیارے فضائی آپریشن انجام نہیں دے سکتے اور انہیں فضا میں دوبارہ ایندھن لینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ انہی مشکلات نے امریکی بحریہ کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں تقریباً غیر موثر کر ڈالا ہے۔ اس مشکل پر قابو پانے کے لیے امریکہ نے 120 سے 160 ری فیولنگ کرنے والے طیارے بروئے کار لا رکھے ہیں۔

فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ نے امریکہ کے طیارہ بردار جنگی بحری بیڑوں کی طاقت کا افسانہ ختم کر دیا ہے۔ ایران کی جانب سے کم قیمت والے ڈرون طیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کے استعمال نے عظیم جنگی بحری بیڑوں پر ان کی برتری ثابت کر دی ہے اور عالمی سطح پر فوجی ڈاکٹرائن بدلتی جا رہی ہے۔ اس وقت امریکہ کے جنگی بحری بیڑے طاقت کی علامت نہیں بلکہ آسانی سے نشانہ بن جانے والے شکار کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسٹ نے کانگریس میں رپورٹ دیتے ہوئے ایران کے خلاف جنگ کے اخراجات 29 ارب ڈالر بیان کیے ہیں۔ دوسری طرف اس نے سینٹ کے اجلاس میں 87 ارب ڈالر کے فوجی بجٹ کا مطالبہ کیا ہے جن میں سے 67 ارب ڈالر مشرق وسطی کے لیے مختص کیے جانے ہیں۔ یہ تمام حقائق امریکی بحریہ کی ختم ہوتی ہجمونی کو ظاہر کر رہے ہیں۔ ایسی بحریہ جو کسی زمانے میں سات سمندروں پر حکمرانی کرتی تھی۔

Tags: AmericanHegemonyMilitaryCrisisNavalHegemonyPentagonPentagonCrisisUnitedStatesUSMilitaryUSNavy
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.