مقبوضہ فلسطین – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی قومی کونسل کی تشکیلِ نو کے طریقۂ کار کے حوالے سے بحث کا دائرہ کار اس وقت مزید وسیع ہو رہا ہے جب بیرونِ ملک فلسطینی کمیونٹیز کے نمائندوں کے انتخاب کے اقدامات کا آغاز ہو اہے۔ اس تمام عمل کے دوران براہِ راست انتخابات کے بجائے نمائندوں کے انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج کو بروئے کار لانے پر شدید اعتراضات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
یہ تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قومی کونسل کی ازسرِ نو تعمیر کو فلسطینی اداروں کی قانونی حیثیت کی تجدید اور سیاسی شراکت داری کو وسیع کرنے کا ایک سنہری موقع ہونا چاہیے تھا لیکن اراکین کے انتخاب کے طریقے نے خود کونسل کی آئندہ شکل ، وطن اور بیرون ملک دنیا میں فلسطینیوں کی ترجمانی کرنے کی اس کی صلاحیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
تقرریاں عوامی مرضی کی ترجمانی نہیں
اس جاری بحث پر اپنے تازہ ترین موقف کا اظہار کرتے ہوئے بیرونِ ملک فلسطینیوں کی عوامی کانفرنس کی جنرل اتھارٹی کے نائب صدر ڈاکٹر ماجد الزیر نے ان تمام اقدامات اور تقرریوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جو تنظیم آزادیِ فلسطین اور فلسطینی اتھارٹی کی قیادت کی طرف سے باہر کے کئی ممالک میں کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ان تمام اقدامات کو باطل اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ فیصلے صرف ان لوگوں کی عکاسی کرتے ہیں جو ان کے پیچھے کارفرما ہیں۔
ڈاکٹر ماجد الزیر نے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ مختلف ممالک میں عوامی مرضی کو پسِ پشت ڈال کر کیے جانے والی یہ من مانی تقرریاں فلسطینی عوام کی مرضی پر ایک صریح شب خون مارنے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے آزادانہ اور شفاف انتخابات کی طرف منتقلی کا پرزور مطالبہ کیا جو کسی بھی قسم کے کٹاؤ تقرری اور انفرادیت کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک جامع قومی کونسل کی تشکیل کے لیے ایسے انتخابات ناگزیر ہیں جو اندرون اور بیرونِ ملک بسنے والے فلسطینی عوام کے تمام طبقات کی شرکت کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے ان انتخابات کو اداروں کی قانونی حیثیت کی تجدید اور عوامی شراکت داری کو مضبوط بنانے کا ایک کلیدی قومی تقاضا قرار دیا۔
ڈاکٹر ماجد الزیر نے باہر مقیم فلسطینیوں کے لیے انتخابات کے انعقاد کے ناممکن ہونے کے تاثر کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کی مثال دی کہ یورپ میں نہایت قلیل مدت کے اندر ایک انتخابی فہرست تیار کی جا سکتی ہے اور بین الاقوامی و یورپی اداروں کی نگرانی میں مکمل شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
کویت: الیکٹورل کالج کا پہلا امتحان
ڈاکٹر ماجد الزیر کا یہ موقف کویت میں فلسطینی کمیونٹی کے نمائندوں کے انتخابات کی وجہ سے پیدا ہونے والے تنازع کے تناظر میں سامنے آیا ہے جو کمیونٹی کے تمام افراد کے براہِ راست ووٹنگ کے بجائے ایک الیکٹورل کالج کے ذریعے عمل میں لائے گئے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق الیکٹورل کالج نے نئی قومی کونسل میں کمیونٹی کی نمائندگی کے لیے دو اراکین کا انتخاب کیا جبکہ کویت میں موجود فلسطینی کمیونٹی نے اس طریقہ کار پر اپنے شدید اعتراضات کا کھل کر اظہار کیا اور اس امر کا مطالبہ کیا کہ یہ واضح کیا جائے کہ آخر یہ الیکٹورل کالج کس طرح تشکیل پایا اس کے اراکین کے انتخاب کے کیا معیارات تھے اس میں کتنے افراد نے حصہ لیا اور ووٹنگ کے عمل کی تمام تر تفصیلات کیا ہیں۔
اس سارے معاملے میں سب سے زیادہ حساس بات یہ ہے کہ اصل اختلاف کا تعلق ان افراد سے ہرگز نہیں ہے جو اس عمل میں کامیاب ہو کر سامنے آئے ہیں بلکہ اصل تنازع اس بنیادی سوال پر ہے کہ آخر کس نے ان چند رائے دہندگان کو ہزاروں فلسطینیوں کے نمائندوں کو چننے کا حق سونپ دیا تھا۔
براہِ راست انتخابات کی صورت میں تو سارا راستہ بالکل واضح ہوتا ہے جہاں کمیونٹی کے افراد خود اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں لیکن اس کے برعکس الیکٹورل کالج کے اس نظام میں انتخاب کا سارا عمل ایک نہایت محدود دائرے میں سمٹ جاتا ہے جس کی وجہ سے اس دائرے کی تشکیل کے معیارات اور اس کی شفافیت ہی نتیجے کی قانونی حیثیت کا بنیادی ترین حصہ بن جاتی ہے۔
عملی حل اور نمائندگی کے مسئلے کے درمیان کشمکش
اصل مسئلہ خود الیکٹورل کالج کے تصور میں پوشیدہ نہیں ہے بلکہ بنیادی دقت اس امر کی ضمانت دینے میں حائل ہے کہ یہ نظام کبھی بھی عوامی شراکت کا کوئی مستقل متبادل نہ بن سکے۔
فلسطینی کمیونٹیز دنیا کے مختلف ایسے ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں جن کے قوانین اور حالات ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بعض مخصوص حالات میں براہِ راست انتخابات کا انعقاد انتہائی پیچیدہ ہو سکتا ہے لیکن اس کے برعکس کسی ایسے غیر براہِ راست طریقہ کار کا سہارا لینا کئی طرح کے اضافی سوالات کو جنم دیتا ہے جن میں یہ امر شامل ہے کہ آخر اس میں کون حصہ لے رہا ہے اس کا انتخاب کس طرح عمل میں آ رہا ہے اور یہ وسیع تر فلسطینی سوسائٹی کی کتنی حقیقی نمائندگی کرتا ہے۔
یہیں سے اس بات کی شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ پہلے سے طے شدہ اور اعلانیہ اصول و ضوابط ہونے چاہئیں جو الیکٹورل کالج کی تشکیل کے طریقہ کار اس کے اراکین کے انتخاب کے معیارات ان کی نمائندگی کے تناسب اور نگرانی و اپیل کے تمام ضابطوں کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کریں تاکہ یہ تنظیمی اقدامات سیاسی اختلاف کا نیا ذریعہ نہ بن سکیں۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ بالواسطہ انتخابات مخصوص حالات میں ایک تنظیمی آراستہ اوزار تو ہو سکتے ہیں لیکن اگر وہ کسی واضح وسیع اور شفاف انتخابی بنیاد پر استوار نہ ہوں تو وہ اپنی تمام تر نمائندہ اہمیت اور قدر کھو بیٹھتے ہیں۔
دوسری طرف اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی بیورو کے رکن ڈاکٹر باسم نعیم نے شتات میں قومی کونسل کے اراکین کو چننے کے لیے الیکٹورل کالج کی تشکیل کی خاطر کیے جانے والے اس گھناؤنے حکومتی ڈرامے کو شکل و ہیت کے اعتبار سے ایک مایوس کن تماشا قرار دیا جو پچھلی صدی کی آمریتوں کے ڈراموں کی ہو بہو عکاسی کرتا ہے۔
ڈاکٹر باسم نعیم نے پیر کے روز جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ تمام تر جاری عمل یکسر مسترد شدہ اور غیر قانونی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فلسطینی عوام ایک بہتر قیادت کے حقدار ہیں اور انہوں نے کسی کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ ان کی مرضی کے بغیر ان کے نام پر ان کے نمائندے منتخب کرے۔
کویت میں مقیم فلسطینی کمیونٹی کے اراکین کو نئی قومی کونسل کیچننے کا یہ سارا مرحلہ اس وقت شدید تنقید کی زد میں آ گیا جب یہ سارا عمل الیکٹورل کالج کے نظام کے تحت سر انجام پایا اور کمیونٹی کے افراد کی طرف سے اس میں محدود براہِ راست شرکت پر شدید اعتراضات اٹھائے گئے۔
کویت کی فلسطینی کمیونٹی دسیوں ہزار فلسطینیوں پر مشتمل ہے جس نے اس امر پر گہرے سوالات اٹھائے ہیں کہ آیا الیکٹورل کالج کا یہ طریقہ کار کمیونٹی کے افراد کی حقیقی مرضی کی عکاسی کرتا بھی ہے یا نہیں اور ان معیارات کی اصل نوعیت کیا تھی جن کی بنیاد پر اس انتخابی عمل میں حصہ لینے والوں کا چناؤ کیا گیا۔
یہ امر اب پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت کیوں اختیار کر چکا ہے؟
اس بحث کی اہمیت اس وقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے جب ایک ایسی نئی قومی کونسل کی تشکیل کا تذکرہ کیا جاتا ہے جو اندرون اور بیرونِ ملک بسنے والے تمام فلسطینیوں کی نمائندگی کی امین ہو کیونکہ باہر کے اراکین کو چننے کا یہ طریقہ کار براہِ راست کونسل کی اصل نوعیت اور اس کے سیاسی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔
یہی وجہ ہے کہ شتات میں ہونے والے کسی بھی قسم کے انتخابی انتظامات کو محض چند نشستوں کو پر کرنے کے لیے کچھ تکنیکی اقدامات کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اسے ایک وسیع تر قومی ادارے کی ازسرِ نو تعمیر کے اس مقدس عمل کا ایک ناگزیر حصہ سمجھنا چاہیے۔
اس زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے تو فلسطینی کمیونٹیز اور سیاسی قوتوں کے ان تمام جائز اعتراضات کو محض انتخابات کے نتائج کا اعلان کر کے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ اصل تقاضا تو یہ ہے کہ اس پورے عمل کی اپنی قانونی حیثیت اس میں حصہ لینے والوں کے لیے مکمل طور پر قابلِ یقین ہونی چاہیے اور باہر بسنے والے ہر فلسطینی کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اسے اپنے نمائندے کے چناؤ میں ایک حقیقی اور کلیدی کردار حاصل ہے۔
مطلوبہ ہدف: شراکت کو وسیع کرنا نہ کہ اسے محدود کرنا
وہ قومی کونسل جو اپنے اندر دنیا کے کونے کونے میں بسنے والے فلسطینیوں کی حقیقی آواز بننے کی صلاحیت رکھتی ہو اسے ایک بہت ہی وسیع قانونی بنیاد کی اشد ضرورت ہے خصوصاً اس نازک موڑ پر جبکہ قومی اداروں کو دوبارہ فعال کرنے اور اس کٹھن انقسام کی کیفیت سے باہر نکلنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔
یہیں سے الیکٹورل کالج کے بارے میں یہ بحث ایک عام سیاسی اختلاف سے نکل کر بیرونِ ملک انتخابات کے لیے مزید واضح اور شفاف قواعد و ضوابط وضع کرنے کے ایک سنہری موقع میں تبدیل ہو سکتی ہے تاکہ جہاں کہیں بھی ممکن ہو براہِ راست انتخابات کو اولین ترجیح دی جائے اور جہاں ان کا انعقاد ناممکن ہو وہاں اعلانیہ ضوابط اور وسیع قومی اتفاق رائے کے دائرے میں رہتے ہوئے متبادل ذرائع کو استعمال کیا جائے۔
آخر کار اس تمام جدوجہد کا اصل مقصد محض قومی کونسل کی تشکیل کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا نہیں ہے بلکہ ایک ایسی کونسل کو وجود میں لانا ہے جس کے بارے میں اندرون اور بیرونِ ملک بسنے والا ہر فلسطینی یہ دل سے محسوس کرے کہ وہ واقعی اس کی صحیح معنوں میں ترجمانی کر رہی ہے۔
اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو ڈاکٹر ماجد الزیر کی طرف سے آزادانہ اور شفاف انتخابات کے اس پرزور مطالبے کو کسی ایک مخصوص طریقہ کار کے معمولی اختلاف سے کہیں بلند کر دیتا ہے اور ایک بہت ہی وسیع سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا قومی کونسل کی یہ تشکیلِ نو فلسطینی نمائندگی کی تجدید اور اس کی شراکت کو وسیع کرنے کا ایک مؤثر دروازہ ثابت ہوگی یا پھر انتخاب کے یہ روایتی طریقے خود اس کی قانونی حیثیت کے بارے میں ایک نئے تنازع کا باعث بن جائیں گے۔
اس اہم ترین سوال کا جواب بڑی حد تک اس عمل کے اصولوں کی واضح پن اس میں عوامی شرکت کے دائرے کی وسعت اور اس کے ذمہ داروں کی اس صلاحیت پر منحصر ہوگا جس کے ذریعے وہ فلسطینیوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ صرف ان کی اپنی آوازیں ہی ان کے حقیقی نمائندوں کو جنم دیتی ہیں۔