• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
ہفتہ 5 ستمبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

علماء فلسطین: مسجدِ اقصیٰ یہودیانے اور مکمل قبضے کے خطرناک منصوبے کی زد میں

علما کونسل نے اسلامی تعاون تنظیم کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا اور ایک مستقل سیاسی، سفارتی اور قانونی اسلامی فرنٹ تشکیل دینے کے لیے عملی جدوجہد پر زور دیا جو قابض ریاست کے مذموم منصوبوں کا منہ توڑ جواب دے سکے۔

ہفتہ 05-09-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, فلسطین
0
علماء فلسطین: مسجدِ اقصیٰ یہودیانے اور مکمل قبضے کے خطرناک منصوبے کی زد میں
0
SHARES
0
VIEWS

مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی علماء نے مسجد اقصی کے گردونواح میں قابض اسرائیل کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت پر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ دیوار براق کے پاس براق چوک میں پچاس ہزار سے زائد یہودی آباد کاروں کا جمع ہونا اور قابض فوج کے تحفظ میں اجتماعی تلمودی عبادات اور رسومات کی ادائیگی بیت المقدس کی یہودکاری اور مسجد اقصی پر غاصبانہ قبضے کی راہ میں ایک انتہائی خطرناک اشارہ ہے۔

مسجد اقصی پر مکمل غاصبانہ قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے اسرائیلی تیاریاں

کونسل کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات ایک ایسے متدارج راستے کا حصہ ہیں جن کا بنیادی مقصد بیت المقدس اور مسجد اقصی میں ایک نئی حقیقت مسلط کرنا ہے جس کی شروعات تلمودی حاضری اور رسومات میں تیزی لانے سے ہوتی ہے اور اس کا اختتام تقسیم کاری اور مسجد پر مکمل غاصبانہ کنٹرول حاصل کرنے پر ہوتا ہے۔

کونسل نے اس امر پر زور دیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض مذہبی رسومات کی ادائیگی سے کہیں بڑھ کر ہے بلکہ یہ بیت المقدس اور مسجد اقصی پر اسرائیلی حاکمیت کو مستحکم کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے کسی بھی قسم کے فعال سیاسی، عوامی اور مذہبی مقابلے کے بغیر اس خطرناک راستے کے تسلسل کے مضمرات سے خبردار کیا۔

تقسیم کاری اور مکمل غاصبانہ حاکمیت کی طرف منتقلی کا انتباہ

فلسطینی علماء نے اس بات پر زور دیا کہ حالیہ پیش رفت کو قابض ریاست کے گھناؤنے منصوبوں کے ایک ترقی یافتہ مرحلے کے طور پر جانچنے کی ضرورت ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ اس صورتحال پر مجرمانہ خاموشی اس بات کو ہوا دے سکتی ہے کہ زمینی حقائق مسلط کرنے کے مرحلے سے آگے بڑھ کر ایسے مزید خطرناک اقدامات کیے جائیں جو مسجد اقصی کی شناخت اور اس کے مقام و مرتبے کو صدمہ پہنچائیں۔

مسجد اقصی پر گزرنے والے حالات پر مسلم دنیا کی مجرمانہ خاموشی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری، عرب اور اسلامی حکومتوں، علمی ہیئتوں اور اسلامی تحریکوں کے کردار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور سب سے مطالبہ کیا کہ وہ بیت المقدس اور مسجد اقصی کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔

نارملائزیشن کے خاتمے اور قابض دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی دنیا کو پکار

کونسل نے عرب اور اسلامی ممالک سے یہ پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری نوعیت کے اقدامات کریں جن کی ابتدا نارملائزیشن کے معاہدوں کو ختم کرنے، قابض دشمن کے ساتھ سیاسی، عسکری اور معاشی تعاون کی تمام شکلوں کو منجمد کرنے کے ساتھ ساتھ سفراء کو واپس بلانے اور بیت المقدس اور اقصی پر مسلسل حملے کرنے والے عناصر کے ساتھ تمام تر تعلقات کو منقطع کرنے سے ہونی چاہیے۔

علما کونسل نے اسلامی تعاون تنظیم کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا اور ایک مستقل سیاسی، سفارتی اور قانونی اسلامی فرنٹ تشکیل دینے کے لیے عملی جدوجہد پر زور دیا جو قابض ریاست کے مذموم منصوبوں کا منہ توڑ جواب دے سکے اور اس پالیسی کے لیے امریکہ کی حمایت کو روکنے کی خاطر اس پر دباؤ ڈال سکے۔

فوری سیاسی اور سفارتی اقدامات کا مطالبہ

علماء نے بیت المقدس اور مسجد اقصی کی حمایت کرنے اور مقدسیوں اور مرابطین کے آہنی عزم کو تقویت دینے کے لیے ایک ہنگامی فنڈ قائم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مسجد کا تحفظ محض بیانات اور رسمی موقف تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے لیے موجودہ مرحلے کی سنگین نوعیت کے مطابق عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

کونسل نے اسلامی اور علمی اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا کماحقہ پاس رکھیں، جمعہ کے خطبات، اسباق اور دینی محافل میں بیت المقدس اور مسجد اقصی کے موضوع کو اجاگر کرنے میں تیزی لائیں اور اس کے ساتھ ساتھ مسجد کو درپیش مذموم منصوبوں سے دنیا کو روشناس کرانے کے لیے وسیع پیمانے پر میڈیا مہمات کا آغاز کریں۔

بیت المقدس کے دفاع کے لیے علماء اور میڈیا کا میدان میں اترنا

کونسل نے نوجوانوں، عوامی پلیٹ فارمز اور میڈیا کی شخصیات کو پکار دی ہے کہ وہ بیت المقدس اور مسجد اقصی کے دفاع میں بھرپور حصہ لیں، اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ مسجد اقصی کے مسئلے کو ہمیشہ عام شعور میں زندہ رکھا جائے اور ان بیت المقدس کے باشندوں اور مرابطین کی بھرپور حمایت کی جائے جو قابض ریاست کے ظالمانہ ہتھکنڈوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔

علمائے فلسطین نے اپنے انتباہ کا یہ کہتے ہوئے اختتام کیا کہ مسجد اقصی اس وقت اپنی شناخت اور مرتبے کو مٹانے والے گھناؤنے منصوبوں کی زد میں ہے اور موجودہ مرحلہ ایک ایسے فوری اور فعال اسلامی موقف کا متقاضی ہے جو یہودکاری اور غاصبانہ قبضے کے اس مذموم منصوبے کی تکمیل کو روک سکے۔

Tags: Al-Aqsa MosqueIsraeli OccupationIsraeli PlansjerusalemJudaizationpalestinePalestinian scholars
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.