مقبوضہ مغربی کنارہ -(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مسجد ابراہیمی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اب قابض حکام کی طرف سے مختلف حیلے بہانوں سے عائد کردہ سکیورٹی پابندیوں اور عارضی اقدامات کا کوئی عام سلسلہ نہیں رہا ہے؛ بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مسجد کی شناخت اور اس کے اندر فلسطینی مذہبی موجودگی کی نوعیت کو از سر نو تشکیل دینے کا ایک تدریجی راستہ بن کر سامنے آ رہا ہے۔
مسجد الابراہیمی کی تقسیم اور سنہ 1994ء کے الابراہیمی مسجد کے سفاکانہ قتل عام کے بعد اس کے کچھ حصوں پر قابض صہیونی تسلط مسلط کرنے کے بعد سے ایسے اقدامات کا تانتا بندھا ہوا ہے جو اس جگہ مسلمانوں کے رقبے کو سکیڑتے ہیں اور وہاں تک رسائی پر پابندیاں عائد کرتے ہیں نیز نماز اور نقل و حرکت کے اوقات کو کنٹرول کرتے ہیں حتیٰ کہ کئی دنوں تک اذان دینے پر پابندی لگائی جاتی ہے اور مسجد کے انتظام کو چلانے والے ذمہ داروں کو جلاوطن کر دیا جاتا ہے۔
اس راستے کی تازہ ترین کڑی کے طور پر فلسطینی وزارت اوقاف اور مذہبی امور کا کہنا ہے کہ قابض حکام نے مسجد ابراہیمی میں مسلسل سترہویں دن بھی اذان دینے پر پابندی جاری رکھی ہے اور جن نماز کے اوقات میں مسلمانوں کو اذان سے محروم رکھا گیا ان کی تعداد ساڑھے تین سو اوقات سے تجاوز کر گئی ہے۔
وزارت اوقاف کے نزدیک یہ معاملہ کسی مذہبی شعار کی پابندی سے آگے بڑھ کر مسجد کی تاریخی اور اسلامی شناخت کو تبدیل کرنے اور اس کے اندر نئے حقائق مسلط کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔
قتل عام سے تقسیم تک
آج جو کچھ ہو رہا ہے اسے سمجھنے کے لیے پچیس فروری سنہ 1994ء کی صبح کی طرف لوٹنا ناگزیر ہے جب انتہا پسند یہودی آباد کار مجرم باروخ گولڈسٹین نے الابراہیمی مسجد کے اندر ایک سفاکانہ قتل عام کیا تھا جس کے نتیجے میں دجنوں فلسطینی نمازی شہید اور دیگر زخمی ہو گئے۔
اس سفاکانہ قتل عام کے بعد اس کے اثرات صرف سکیورٹی اقدامات تک محدود نہیں رہے؛ بلکہ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان مسجد کی تقسیم مسلط کر دی گئی اور اس کے کچھ حصوں کو قابض صہیونی کنٹرول کے تابع کر دیا گیا جبکہ فلسطینیوں کی نقل و حرکت اور حرم تک ان کی رسائی پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
اس وقت سے وہ تقسیم جسے ایک استثنائی اقدام کے طور پر پیش کیا گیا تھا مسجد پر مسلط کردہ حقیقت کا حصہ بن گئی اور یہیں پر اس بات کی ایک خطرناک ترین خصوصیت پوشیدہ ہے کہ عارضی اقدام ایک مستقل حقیقت میں تبدیل ہو جاتا ہے اور مستقل حقیقت نئے اقدامات کی بنیاد بن جاتی ہے۔
اذان پر پابندی
وزارت اوقاف کے مطابق اکیس جون سنہ 2026ء کو قابض حکام نے لاؤڈ سپیکرز کے ذریعے اذان دینے پر تدریجی پابندیاں عائد کرنا شروع کر دیں اور مسجد کے ان حصوں میں جو اس کے کنٹرول کے تحت ہیں مرمت اور بحالی کے کاموں کا بہانہ بنایا لیکن یہ اقدام کسی مخصوص وقت کی حدوں پر نہیں رکا؛ بلکہ یہاں تک جاری رہا کہ اس نے ستر دنوں سے بھی زیادہ کا عرصہ پار کر لیا۔
وزارت کا کہنا ہے کہ نماز کے ساڑھے تین سو سے زیادہ اوقات ایسے گزر گئے جن میں اذان نہیں دی گئی اور یہاں معاملہ ایک عارضی اقدام سے ہٹ کر اس جگہ کی اپنی شناخت سے متعلق ایک سوال بن جاتا ہے؛ کیونکہ اذان صرف ایک آواز نہیں ہے جو نماز کے وقت کے داخل ہونے کا اعلان کرتی ہے؛ بلکہ یہ مسجد کے اسلامی فریضے کے جاری رہنے کے واضح ترین روزمرہ مظاہر میں سے ایک ہے۔
اور جب اذان کو لگاتار روکا جاتا ہے تو قابض حکام صرف لاؤڈ سپیکرز کو ہی کنٹرول نہیں کرتے ہیں؛ بلکہ وہ حرم کے اندر دینی زندگی کے نمایاں ترین مظاہر میں سے ایک کو کنٹرول کر رہے ہوتے ہیں۔
دباؤ کے تحت اسلامی انتظامیہ
نشانہ صرف نمازی یا اذان ہی نہیں ہیں؛ بلکہ وزارت اوقاف کے مطابق قابض حکام مسلسل دسویں دن بھی الابراہیمی مسجد کے ڈائریکٹر شیخ معتز ابو سنینہ اور اس کے منتظمین کے سربراہ ہمام ابو مرخیہ کو جلاوطن رکھے ہوئے ہیں جو کہ ملازمین کے اپنے فرائض انجام دینے کے دوران ان پر تنگی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔
یہ پیش رفت قابل توجہ اور خطرناک ہے؛ کیونکہ مسجد کی شناخت کو اکیلی دیواریں نہیں بچاتیں؛ بلکہ وہ انتظامیہ بھی بچاتی ہے جو اس کے دینی امور کو منظم کرنے اور نماز کے جاری رہنے نیز اس سے جمڑی خدمات کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔
اور جب ذمہ داروں کو مسجد سے دور کیا جاتا ہے اور اس کے اندر کام کرنے والوں پر تنگی کی جاتی ہے تو اس کے اندر اسلامی زندگی کو چلانے کی صلاحیت کمزوری کا شکار ہو جاتی ہے جو کہ اس جگہ کی تفصیلات میں قابض حکام کے اثر و رسوخ کے پھیلنے کے ساتھ ساتھ ہوتی ہے اور اس طرح اسلامی انتظامیہ کو کمزور کرنا حرم پر کنٹرول کے مساوات کا ایک حصہ بن جاتا ہے۔
ہو سکتا ہے کہ مقصد اچانک مسجد کو مسلمانوں سے خالی کرنا نہ ہو؛ کیونکہ سب سے زیادہ موثر کنٹرول وہ ہو سکتا ہے جو تدریج کے ساتھ مسلط کیا جائے جیسے یہاں ایک اقدام، وہاں ایک پابندی، جگہ کے ایک حصے کو بند کرنا، کسی دوسرے وقت میں رسائی پر پابندی، اذان سے روکنا، کسی ملازم یا ذمہ دار کو ہٹانا اور پھر سکیورٹی یا مرمت کے بہانے سے نئے انتظامات مسلط کرنا۔
اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگ نئی حقیقت کے ساتھ خود کو ڈھال لیتے ہیں اور وہ پابندیاں جو اپنی شروعات میں ناپسندیدہ تھیں روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں اور یوں خطرناک ترین تبدیلی رونما ہو سکتی ہے کہ تنگی پیدا کرنا ایک طبعی چیز بن جائے اور مقید اسلامی موجودگی معمول کی حالت بن جائے۔
ایک وسیع تر یہودی آباد کاروں کا منصوبہ
الابراہیمی مسجد کو الخلیل کے پرانے بلدہ میں قابض کی طرف سے مسلط کردہ حقیقت سے الگ نہیں کیا جا سکتا ہے؛ کیونکہ مسجد ایک ایسے علاقے میں واقع ہے جو کئی سالوں سے سخت عسکری اور سکیورٹی اقدامات کے تابع ہے اور جس میں صہیونی کنٹرول یہودی آباد کاروں کی موجودگی اور فلسطینیوں پر عائد پابندیوں کے ساتھ گڈمڈ ہوتا ہے۔
اور یہ چیز مسجد کی جنگ کو اسی جگہ کے لیے ایک وسیع تر جنگ کا حصہ بنا دیتی ہے؛ کیونکہ مسجد پر کنٹرول کا مطلب پرانے بلدہ کے دل میں ایک مرکزی نقطے پر کنٹرول ہے اور اس کے گردونواح پر کنٹرول کا مطلب فلسطینیوں کی نقل و حرکت اور ان کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہونا ہے جبکہ مسلسل تنگی پیدا کرنے کی وجہ سے باشندے اس علاقے سے دور ہونے پر مجبور ہوتے ہیں اور اس طرح مسجد کو نمازیوں سے خالی کرنا اس کے گردونواح کو فلسطینی موجودگی سے خالی کرنے کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔
ایک بڑی جنگ
مختصر یہ کہ الابراہیمی مسجد میں موجودہ تصادم اپنی جوہر میں صرف لاؤڈ سپیکرز کے بارے میں کوئی جنگ نہیں ہے؛ بلکہ یہ ایک بڑے سوال پر جنگ ہے کہ اس جگہ کا مالک کون ہے اور اس کا فریضہ کون متعین کرتا ہے اور کون فیصلہ کرتا ہے کہ کون اس میں اپنے شعائر ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہے؟
اور جب اذان سے روکا جاتا ہے، مسجد کے ذمہ داروں کو ہٹایا جاتا ہے، کام کرنے والوں اور نمازیوں پر تنگی کی جاتی ہے اور حرم کے حصوں پر کنٹرول پھیلایا جاتا ہے تو یہ تمام اقدامات ایک ہی نتیجے پر ملتے ہیں: اپنے مسجد کے اندر مسلمانوں کی طبعی موجودگی کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو گھٹانا۔
اور اسی لیے ہر اقدام کے ساتھ الگ الگ معاملہ کرنا بڑی تصویر کو چھپا سکتا ہے؛ کیونکہ اذان سے روکنا سادہ معلوم ہوتا ہے اگر اسے اس کے سیاق و سباق سے الگ کر دیا جائے اور مسجد کے ڈائریکٹر کو دور کرنا ایک انتظامی اقدام لگتا ہے اگر اسے اکیلا پڑھا جائے اور نمازیوں پر تنگی کو ایک سکیورٹی اقدام کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
لیکن ان تمام اقدامات کو ایک ساتھ جمع کرنا ایک مختلف راستے کو بے نقاب کرتا ہے: مسجد کے اندر زندگی کی دوبارہ انجینئرنگ کرنا تاکہ اس پر قابض صہیونی کنٹرول کو پختہ کرنے کی خدمت کی جا سکے
اور اسی لیے حرم الابراہیمی پر سفاکانہ قتل عام کے تین دہائیوں سے زیادہ گزر جانے کے بعد بھی مسجد پر جنگ جاری ہے؛ لیکن اس کے اوزار بدل رہے ہیں۔
پس اگر سفاکانہ قتل عام نے مسجد کی تقسیم کے سامنے دروازہ کھولا تھا تو موجودہ مرحلہ زیادہ تدریجی اوزاروں پر قائم دکھائی دیتا ہے: تنگی پیدا کرنا، رسائی کو کنٹرول کرنا، انتظامیہ کو دور کرنا، کام کرنے والوں کو مقید کرنا، شعائر کو کنٹرول کرنا اور اذان سے روکنا۔
اور ان اوزاروں میں خطرہ یہ ہے کہ انہیں مسجد کو یہودکاری کرنے کے صریح اعلان کی ضرورت نہیں ہوتی ہے؛ اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے اندر اسلامی موجودگی کو دن بدن زیادہ مشکل بنا دیا جائے۔
اور آخر میں سوال یہ ہو سکتا ہے کہ صرف یہ کیوں پوچھا جائے کہ اذان کیوں روکی جاتی ہے؟ بلکہ یہ پوچھا جانا چاہیے کہ یہ پابندی کس حد تک پہنچ سکتی ہے اس سے پہلے کہ اذان کی غائبانہ حالت مستقل حقیقت کا حصہ بن جائے، نمازیوں کی غیر حاضری پابندیوں کا طبعی نتیجہ بن جائے اور مسجد پر مکمل کنٹرول ایک ایسی حقیقت بن جائے جس کے اعلان کرنے کی قابض کو ضرورت ہی پیش نہ آئے؟