مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قابض اسرائیل کی طرف سے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے لیے نئے اثر و رسوخ کے علاقوں کی منظوری اس کی استعماری پالیسی میں ایک خطرناک کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے جس کا مقصد مزید فلسطینی اراضی پر غاصبانہ قبضہ کرنا اور طاقت کے ذریعے جببر الحاق اور جبری نقل مکانی کا مکروہ واقعہ مسلط کرنا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کو موصول ہونے والے ایک بیان میں حماس نے خبردار کیا کہ مغربی کنارے میں اراضی پر قبضے اور نئے علاقوں کو بتدریج خالی کرانے کے اقدامات میں شدت آ رہی ہے اور ان سے زندگی کے بنیادی لوازمات چھینے جا رہے ہیں ۔ ان کے رابطے کاٹ کر انہیں الگ تھلگ بستیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ استعماری منصوبے قابض اسرائیل کو فلسطینی اراضی پر کسی قسم کا حق یا بالادستی عطا نہیں کریں گے اور نہ ہی اسے سلامتی اور استحکام دلا سکیں گے۔
’حماس‘ کا کہنا تھا کہ قابض اسرائیل کے استعماری منصوبے اور جبری الحاق اور جبری نقل مکانی مسلط کرنے کی تمام تر گھناؤنی کوششیں فلسطینی عوام کی آہنی استقامت اور اپنی مقدس سرزمین اور حقوق کے ساتھ ان کے اٹوٹ تعلق کے سامنے پاش پاش ہو جائیں گی۔ انہوں نے اس بات پر سخت زور دیا کہ قابض اسرائیل کے ظلم و ستم اور جارحیت کی یہ دہائیاں فلسطینیوں کو اپنی زمین سے دستبردار کرنے یا ان کے بلند حوصلوں کو توڑنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں۔
’حماس‘ نے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اپنی تمام تر ذمہ داریاں پوری کرے اور استعماری توسیع پسندی کی محض زبانی مذمت پر اکتفا کرنے کے بجائے قابض اسرائیل کا محاسبہ کرنے اور اس کے استعماری منصوبوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے اور اسے بین الاقوامی قوانین اور قراردادوں کی پاسداری کرنے پر مجبور کرے۔
’جماعت‘ نے مغربی کنارے میں بسنے والے اپنے عزیز فلسطینی عوام کے غیور بیٹوں کو دعوت دی کہ وہ مزاحمت کی تمام تر شکلوں کو مزید فروغ دیں اور یہودی بستیوں کی توسیع کا مقابلہ کرنے اور ان کے مذموم منصوبوں کو خاک میں ملانے کے مؤثر ذرائع کو فعال کریں۔ حماس نے اس بات پر زور دیا کہ ارضِ فلسطین کا دفاع ایک اجتماعی ذمہ داری ہے اور اس کے ساتھ چمٹے رہنا فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کے قومی کاز کے مستقبل کے تحفظ کے لیے دفاع کی اولین لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔