دوحہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اریحا کے شمال میں واقع قصبے العوجا کے قریب ہمارے فلسطینی عوام کے ایک ہیرو کی طرف سے کی جانے والی بہادرانہ چاقو کے وار کی کارروائی کو سراہا ہے، جس کے نتیجے میں ایک غاصب یہودی آباد کار زخمی ہو گیا اور بہادر مجاہد خیریت سے واپس نکل گیا۔
’حماس‘ نے اتوار کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ بہادرانہ کارروائی مقبوضہ مغربی کنارے اور پوری فلسطین میں قابض دشمن اور ان کے یہودی آباد کاروں کے غنڈوں کی طرف سے کیے جانے والے ہلاکت خیز مجرمانہ حملوں کے جواب میں اور مسجد اقصی کی حرمت کی پامالیوں کے بڑھتے ہوئے سلسلے کے خلاف کی گئی ہے۔
اس بات کی تصدیق کی گئی کہ یہ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے عوام فلسطینی زمین کے ہر کونے میں قابض کے خلاف مزاحمت کا راستہ جاری رکھے ہوئے ہیں، ہمارے عوام کے خلاف جاری تمام تر دباؤ، تعاقب اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے باوجود۔
مقبوضہ مغربی کنارے اور اندرونی علاقوں میں ہمارے مورچہ زن اور مزاحمت کرنے والے حریت پسند عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ غاصب صہیونی دشمن اور اس کے یہودی آباد کاروں کے غنڈوں کے جرائم کا مقابلہ جاری رکھیں، اور تمام ممکنہ ذرائع سے اور تمام محاذوں پر ان کے ساتھ نبردآزما ہوں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں اریخا کے شمال میں واقع قصبہ العوجا میں اتوار کی صبح چاقو کے وار کے ایک واقعے میں ایک یہودی آباد کار زخمی ہو گیا۔
ایک تصویر میں اس یہودی آباد کار کو دکھایا گیا ہے جو پیٹھ پر چاقو لگنے کے نتیجے میں درمیانی حالت میں زخمی ہوا ہے۔
چاقو کے وار کا یہ واقعہ مقبوضہ مغربی کنارے میں قابضین کے حملوں اور یہودی آباد کاروں کے غنڈوں کی جارحیت میں اضافے کے ساتھ ہی پیش آیا ہے۔