مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مقبوضہ مغربی کنارے کے متعدد علاقوں میں قابض صہیونی فوج کے دھاووں اور یہودی آباد کاروں کی جارحیت کی ایک نئی لہر دیکھی گئی ہے، جس کے دوران گھروں پر چھاپے مارے گئے، نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا اور فلسطینی شہریوں اور ان کی گاڑیوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
جنین میں قابض فوج کے آپریشنز کے دوران الجدیدہ قصبے میں ایک گھر پر چھاپہ مارا گیا، جبکہ یہ کارروائیاں ضلع کے جنوب میں واقع قصبے عجہ تک پھیل گئیں۔
جنین کے جنوب میں واقع عرابہ اور یعبد کے درمیان یہودی آباد کاروں نے ایک بچی اور دو نوجوانوں پر مرچوں والی گیس کا استعمال کر کے انہیں زخمی کر دیا۔
نابلس کے جنوب مشرق میں واقع قريہ اوصرین میں قابض فوج کے دھاوے کے بعد شدید جھڑپیں ہوئیں، جس کے دوران قابض فوج نے نوجوانوں پر گیس کے گولے برسائے۔
نابلس کے جنوب میں واقع قصبے بیتا میں ایک گھر پر چھاپے کے بعد قابض فوج نے نوجوان علاء یحییٰ عدیلی کو گرفتار کر لیا۔
طولکرم کے مشرق میں واقع مضافاتی علاقے اکتابا میں بھی قابض فوج کا دھاوا ریکارڈ کیا گیا، جو کہ نوجوان محمود ابو الخیر کے گھر پر چھاپے اور اس کی گرفتاری پر اختتام پذیر ہوا۔
بیت لحم کے جنوب میں واقع قصبے بیت فجار میں نوجوانوں اور قابض فوج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
الخلیل کے مشرق میں واقع علاقے البويرہ کو یہودی آباد کاروں نے حملے کا نشانہ بنایا، جبکہ قلقيلية کے مشرق میں واقع قصبے کفر لاقف کے قریب فلسطینی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا گیا۔
قابض فوج کے دھاوے رام اللہ کے شمال مغرب میں واقع المغربی فارم تک پھیل گئے، جبکہ شمالی وادی اردن میں واقع خربہ سمرہ میں یہودی آباد کاروں نے اشتعال انگیز گشت کیا۔