غزب اردن – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمال میں نابلس شہر کے جنوب میں واقع قريہ جالود میں کئی منزلہ تین نئے گھروں پر قبضہ کر لیا اور ان کے مکینوں کو اسلحے کے زور پر گھروں سے نکال دیا۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض فوج نے جالود گاؤں پر دھاوا بولا اور فلسطینی خاندانوں کو ان کے گھروں سے نکال کر اور انہیں وہاں رہنے سے محروم کر کے ان تینوں مکانات کو فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل کر دیا۔
نابلس کے جنوب میں واقع دیہاتوں میں قابض فوج کے دھاووں اور شہریوں کے گھروں پر قبضے کر کے انہیں نگرانی کے مراکز میں تبدیل کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ علاقے میں یہودی آباد کاروں کے حملے بھی ہو رہے ہیں۔
وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن نے ان اعداد و شمار کو فلسطینی وجود کو ہدف بنانے والی ایک منظم روزانہ کی پالیسی قرار دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ گذشتہ جولائی کے مہینے کے دوران قابض فوج اور یہودی آباد کاروں نے دو ہزار دو سو چھپن حملے کیے ہیں۔
اسی مہینے کے دوران قابض فوج نے انہدام کے 80 آپریشن ریکارڈ کیے جن کے نتیجے میں 88 گھروں سمیت ایک سو پینسٹھ تنصیبات تباہ ہو گئیں اور اس کے علاوہ انہدام کے چونتیس مزید نوٹس جاری کیے گئے۔
کمیشن نے سال سنہ 2026ء کی پہلی ششماہی کے دوران مغربی کنارے میں قابض فوج اور یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں1174 حملوں کی دستاویزی شہادتیں بھی جمع کی ہیں جو فلسطینیوں کے خلاف جارحیت کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار کی نشاندہی کرتی ہے۔
طولکرم شہر کے جنوب میں واقع کفر صور میں قابض اسرائیلی حکام نے آج جمعرات کے روز فلسطینیوں کے رہائشی اور زرعی مکانات اور تنصیبات کو گرانے کے نوٹس جاری کیے۔
مقامی ذرائع کے مطابق ان نوٹسوں کا اطلاق پانچ منزلہ رہائشی عمارت اور دو رہائشی فلیٹوں کے ساتھ ساتھ چار آباد گھروں، ایک زیر تعمیر گھر اور بلدة میں واقع ایک فارم پر ہوتا ہے۔
یہ نوٹس مغربی کنارے کی مختلف گورنریوں میں شہریوں اور ان کی املاک کو نشانہ بنانے والے انہدام کے آپریشنز اور تعمیراتی تنگی میں اضافے کا حصہ ہیں۔
قابض فوج اور یہودی آباد کار فلسطینیوں اور ان کی املاک کے خلاف اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں گھروں پر قبضے، انہدام اور نئے نوٹس جاری کرنے کے آپریشنز میں تیزی آ رہی ہے۔