جنین – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) جمعرات کے روز یہودی آباد کاروں نے سنہ 2005ء میں قابض دشمن کی طرف سے منظور کردہ ’انخلاء‘ کے منصوبے کے تحت خالی کیے جانے کے اکیس سال بعد جنین کے مشرق میں واقع فلسطینی زمینوں پر قائم کردہ یہودی بستی ’جانیم‘ کو دوبارہ قائم کر لیا ہے۔
جنین گورنری میں استعماری امور پر نظر رکھنے والے طارق اغباریہ نے کہا ہے کہ بستی ’جانیم‘ میں یہودی آباد کاروں کی واپسی ایک خطرناک پیش رفت ہے جو جنین گورنری کے جغرافیائی و سیاسی نقشے کو نئے سرے سے تشکیل دیتی ہے اور زمین پر نئے حقائق مسلط کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس بستی کی دوبارہ تعمیر سے ’گورنری کے رابطے منقطع‘ ہو جائیں گے اور یہ علاقہ ایک فوجی چھاؤنی کی شکل اختیار کر جائے گا جس سے حملوں اور تصادم کی لہر میں اضافہ ہو گا اور فلسطینی اجتماعات کے درمیان جغرافیائی رابطہ خطرے میں پڑ جائے گا۔
اغباریہ نے اشارہ کیا کہ یہ قدم ’قابض حکومت پر یہودی آباد کاروں اور بستیوں کی کونسلوں کے غلبے‘ کی عکاسی کرتا ہے اور ایک ایسے جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کو کمزور کرتا ہے۔
یہودی بستی ’جانیم‘ کی دوبارہ تعمیر کا یہ عمل جنین گورنری میں قابض دشمن کی طرف سے ستائیس فلسطینی عمارات کو مسمار کرنے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے، ایسے وقت میں جب قابض دشمن کے وزیر مالیات بزلئیل سموٹریچ نے اعلان کیا تھا کہ ’جانیم‘ اور ’کادیم‘ کے علاقوں میں انہدم کی کارروائیاں وہاں یہودی آباد کاری کی واپسی کی راہ ہموار کرتی ہیں۔
قابض حکومت نے سنہ 2025ء کے آخر میں مقبوضہ مغربی کنارے میں ۱۹ بستیوں کے قیام یا تنظیم نو پر مشتمل ایک فیصلے کے تحت بستیوں ’جانیم‘ اور ’کادیم‘ کو دوبارہ قائم کرنے کی منظوری دی تھی۔
واضح رہے کہ ’انخلاء‘ کا منصوبہ اسرائیل نے سنہ 2005ء میں نافذ کیا تھا جس کے تحت اس نے غزہ کی پٹی سے انخلاء کیا تھا اور مغربی کنارے کے شمال میں چار بستیوں یعنی ’جانیم‘، ’کادیم‘، ’حومش‘ اور ’سانور‘ کو خالی کرا لیا تھا۔
مارچ سنہ 2023ء میں کنیسٹ نے قانون کے ان دفعات کو منسوخ کر دیا جو یہودی آباد کاروں کے ان چار بستیوں میں داخل ہونے پر پابندی لگاتی تھیں، جس نے ان کی واپسی کی راہ ہموار کی، خاص طور پر بستی ’حومش‘ کے مقام پر جہاں ایک مذہبی سکول دوبارہ تعمیر کیا گیا، اور یہودی آباد کاروں کی واپسی کے ساتھ ساتھ فلسطینی شہریوں پر حملے اور فوجی اقدامات کیے گئے جن میں ایک فوجی پوائنٹ کا قیام، راستوں کی بندش اور کسانوں کی نقل و حرکت پر پابندی شامل تھی۔
یہ فیصلہ شمالی مغربی کنارے میں استعماری تسلط کو وسعت دینے کے اسرائیلی مقاصد کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس کے ذریعے سنہ 2005ء میں خالی کیے گئے مقامات پر یہودی آباد کاروں کی واپسی کو آسان بنایا جا رہا ہے اور اس کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ، سڑکیں اور فوجی مقامات تیار کیے جا رہے ہیں۔
یہ اس وقت بھی ہو رہا ہے جب نام نہاد ’سول ایڈمنسٹریشن‘ کے اختیارات انتہا پسند وزیر ’بزلئیل سموٹریچ‘ کو منتقل کیے جا رہے ہیں، جو مغربی کنارے کے عملی الحاق کے اقدامات کو تقویت دیتا ہے اور نئے استعماری حقائق مسلط کرتا ہے جس کا مقصد جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کو کمزور کرنا ہے۔