نابلس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے رہنما محمود مرداوی نے مقبوضہ مغربی نارے کے شمالی شہر ز نابلس کے مشرق میں واقع قصرہ میں یہودی آباد کاروں کے محاصرے کا شکار فلسطینی خاندانوں کی مدد کرنے اور ان پر عائد محاصرے کو ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی اپیل کی ہے۔
مرداوی نے ایک بیان میں قصرہ کے مکینوں اور اس کے اردگرد کے دیہاتوں قصبوں کے عوام سے اپیل کی کہ وہ یہودی آباد کاروں کے محاصرے اور حملوں کا شکار خاندانوں کے شانہ بشانہ ایک صف ہو کر کھڑے ہوں، اور قصبے کے گردونواح میں میدانی موجودگی کو مزید مستدر کریں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کا تحفظ اور ان کی مدد کرنا تمام فلسطینی عوام کے کندھوں پر ایک قومی فریضہ ہے، واضح کیا کہ قصرہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ طاقت کے ذریعے جبری نقل مکانی مسلط کرنے، مکینوں کو خوفزدہ کرنے اور انہیں اپنی زمین چھوڑنے پر مجبور کرنے کی ایک نئی کوشش ہے۔
انہوں نے اس بات پر سخت زور دیا کہ مکینوں کی استقامت اور اپنے گھروں اور زمینوں کے ساتھ ان کی وابستگی قابض دشمن اور یہودی آباد کاروں کے منصوبوں کا سب سے طاقتور جواب ہے، اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ظلم و ستم اور جارحیت میں کتنی ہی تیزی کیوں نہ آجائے، وہ اپنے آبادکاری کے منصوبوں کو مسلط کرنے میں ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے۔
مرداوی نے یہودی آباد کاروں کے روزانہ کے حملوں کا مقابلہ کرنے میں قصرہ کے مکینوں اور مغربی کنارے کے عوام کی استقامت کو خراج تحسین پیش کیا، اور تحفظ و امداد کی کمیٹیوں کے کردار کو مزید فعال بنانے کا مطالبہ کیا تاکہ مکینوں کے تحفظ کی ضمانت دی جا سکے اور ان کی اپنی زمینوں پر باقی رہنے کی صلاحیت کو تقویت مل سکے۔
انہوں نے سرکاری، دھڑے بندی اور عوامی سطح پر موقف کے اتحاد، اور فلسطینی دیہاتوں اور قصبوں کے مابین باہمی تعاون کو فروغ دینے کی اپیل کی، اسے آبادکاری اور جبری نقل مکانی کے منصوبوں کے خلاف ایک آہنی دیوار قرار دیا، اور یہودی آباد کاروں کے حملوں کو روکنے کے لیے قومی اور عوامی تحریک کو جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔
یہودی آباد کار لگاتار چوتھے روز قصبہ قصرہ کے علاقے جبل رأس العين میں شہری یوسف عبد السلام ابو ریدہ کے گھر کا محاصرہ جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کا مقصد مکینوں کو نکال کر اس پر قبضہ کرنا ہے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ آج صبح بڑی تعداد میں یہودی آباد کار گھر کے گردونواح میں پہنچ گئے، اور پتھروں کے ذریعے وہاں جانے والے راستے کو بند کر کے اس کے گرد دھاتی باڑ لگا دی، جبکہ اس دوران علاقے میں قابض فوج کے درجنوں اہلکار بھی تعینات رہے۔
جدار اور بستی مخالف کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق قابض فوج اور یہودی آباد کاروں نے گذشتہ ماہ جولائی کے دوران مغربی کنارے میں بائیس سو چھپن حملے کیے، جو کہ فلسطینیوں، ان کی زمینوں اور املاک پر ہونے والے حملوں میں اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔
کمیشن نے اسی عرصے کے دوران یہودی آباد کاروں کی طرف سے سات سو اٹھانویں حملے ریکارڈ کیے، جن کے نتیجے میں مسلح یہودی آباد کاروں کی ملیشیاؤں کی فائرنگ سے رام اللہ اور نابلس میں سات فلسطینی شہید ہو گئے، اس کے علاوہ املاک کی توڑ پھوڑ اور زمینوں کو ہموار کرنے کے چار سو چالیس آپریشنز بھی انجام دیے گئے۔
کمیشن نے سنہ 2026ء کی پہلی شماہی کے دوران مغربی کنارے میں قابض فوج اور یہودی آباد کاروں کی طرف سے گیارہ ہزار چوہتر حملوں کی دستاویزی ریکارڈنگ کی، جو فلسطینیوں کے خلاف جارحیت کی رفتار میں خطرناک اضافے کی علامت ہے۔