مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے عام انتخابات کے قانون میں ترمیم کے لیے ایک نیا قانون صادر کیا ہے جو کہ ان کی آمرانہ پالیسی کا غماز ہے۔ یہ قدم ووٹرز کی میدان میں رجسٹریشن کے آغاز سے چند دن قبل اور چھبیس نومبر سنہ 2026ء کو طے شدہ پارلیمانی انتخابات کی تاریخ سے تقریباً ساڑھے تین ماہ پہلے اٹھایا گیا ہے۔
مرکزی الیکشن کمیشن نے بتایا کہ اسے نیا قانون موصول ہو چکا ہے، جس کے ذریعے جون میں جاری ہونے والے قانون نمبر 10 سنہ 2025ء کو منسوخ کر دیا گیا ہے اقانون ساز کونسل کے ارکان کی تعداد کو دوبارہ 132 کر دیا گیا ہے، جبکہ پچھلی ترمیم میں اس تعداد کو بڑھا کر 200 کر دیا گیا تھا۔
اہم سابقہ ترامیم کا برقرار رہنا
نئے قانون کا دائرہ کار قانون ساز کونسل کی نشستوں کی تعداد کو سابقہ حالت پر لانے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پچھلی ترمیم میں شامل متعدد احکامات کو بھی برقرار رکھا، جن میں انتخابی فہرستوں میں کم از کم 33 فیصد خواتین کی تخصیص اور ایک فیصد تھریش ہولڈ کی شرح کا نفاذ شامل ہے۔
اس کے علاوہ قانون ساز کونسل کی رکنیت کے لیے نامزدگی کی کم از کم عمر کو اٹھائیس سال سے گھٹا کر تئیس سال کرنا بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ساتھ ہی نامزد لسٹوں کے لیے یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی واحد اور جائز نمائندہ تنظیم ’ پی ایل او‘، اس کے سیاسی اور قومی پروگرام اور متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کی پابند ہوں گی، جسے انسانی حقوق کی تنظیموں نے امیدواروں کے اپنے سیاسی نقطہ نظر کے انتخاب کے حق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
نامزدگی کے طریقہ کار میں ترامیم
نئے قانون نے نامزدگی کے عمل میں طریقہ کار سے متعلق کچھ ترامیم متعارف کروائی ہیں، جن میں نامزد لسٹوں کو اس بات کی مہلت دینا شامل ہے کہ وہ انتخابی کمیشن کی جانب سے درخواستوں پر فیصلہ دینے سے پہلے اپنی نامزدگی کی درخواستوں کو مکمل یا درست کرنے کے لیے تین دن کا وقت حاصل کریں۔
اس کے علاوہ پارٹیوں کے امیدواروں کے لیے منصبِ صدارت پر نامزدگی کی شرائط کو بھی واضح کیا گیا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ پارٹی کے نمائندے کی طرف سے نامزدگی کی درخواست پر دستخط کیے جائیں، جبکہ اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ یہ شرط آزاد امیدواروں پر لاگو نہیں ہوتی۔
قانون نے ایک ہی وقت میں منصبِ صدارت اور قانون ساز کونسل کی رکنیت کے لیے بیک وقت نامزدگی پر پابندی عائد کر دی ہے، تاکہ دونوں انتخابات میں نامزدگی کی دوہری درخواستوں سے روکا جا سکے۔
رائے دہی اور نتائج سے متعلق خصوصی احکامات
اس ترمیم میں رائے دہی کے طریقہ کار سے متعلق نئے احکامات بھی شامل ہیں، جن میں مرکزی انتخابی کمیشن کو ان پڑھ ووٹرز اور معذور افراد کے ووٹنگ سے متعلق خصوصی ضوابط طے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
اس نے ابتدائی اور حتمی نتائج کے اعلان اور ان کے خلاف اپیل کے طریقہ کار کو بھی منظم کیا ہے، اس کے علاوہ نتائج کی جانچ پڑتال اور کمیشن کے مرکزی ہیڈ کوارٹر اور انتخابی حلقوں کے دفاتر کے درمیان ان کے تبادلے کے اصول بھی طے کیے ہیں۔
ان ترامیم میں بیت المقدس کے شہر میں منظور شدہ طریقہ کار کے مشابہ ہی غزہ پٹی میں بھی انتخابی کارروائیوں کو منظم کرنا شامل ہے، جو ووٹنگ، ووٹوں کی گنتی اور نتائج کے اعلان سے متعلق ہیں۔
کمیشن اپنے انتخابی شیڈول پر گامزن ہے
مرکزی انتخابی کمیشن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ انتخابات کے لیے اعلان کردہ ٹائم لائن پر عمل پیرا ہے، اور نئی قانونی ترامیم اگلے چھبیس نومبر کو طے شدہ رائے دہی کی تاریخ کو تبدیل نہیں کریں گے۔
ووٹرز کی فیلڈ رجسٹریشن کا آغاز آنے والی پندرہ اگست سے ہوگا اور یہ پانچ دن تک جاری رہے گا، جو کہ الیکٹرانک رجسٹریشن کے ساتھ ساتھ جاری رہے گی۔ یہ مرحلہ ووٹرز لسٹ کی اشاعت اور اعتراضات کے لیے دروازے کھولنے سے پہلے کا ہے، جس کے بعد ستمبر میں نامزدگی کی درخواستیں جمع کرانے کے مرحلے کی طرف بڑھا جائے گا۔
قانون میں یہ ترمیم ایسے وقت میں کی گئی ہے جب انتخابی عمل فیلڈ رجسٹریشن کے مرحلے میں داخل ہونے کی تیاری کر رہا ہے، اور چھبیس نومبر کو پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کے صدارتی فرمان کے اجرا کو ایک ماہ سے بھی کم عرصہ گزرا ہے۔ یہ تبدیلی جون کی اس سابقہ ترمیم کے بعد آئی ہے جس نے قانون ساز کونسل کی نشستیں بڑھا کر 200 کر دی تھیں، جنہیں آج دوبارہ 132 نشستوں پر واپس لا دیا گیا ہے۔
انتخابات کے قانونی فریم ورک کو مکمل کرنے کے سلسلے میں آج انتخابی کمیشن کو ایک صدارتی فرمان بھی موصول ہوا ہے جس میں کونسل کے ارکان کی تعداد دوبارہ 132 ہونے کے بعد آئندہ قانون ساز کونسل میں مسیحی شہریوں کے لیے کم از کم سات نشستیں مختص کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔