• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
بدھ 12 اگست 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

حقِ واپسی فلسطینیوں کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے، جدوجہد جاری رہے گی: مہاجرین

فلسطینی مہاجرین محض کسی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والا کوئی ہنگامی انسانی معاملہ نہیں ہیں بلکہ وہ ایک ایسے عوام ہیں جنہیں طاقت کے زور پر ان کے شہروں اور دیہاتوں سے جڑ سے اکھاڑا گیا، پھر کئی دہائیوں تک انہیں ان کے گھروں اور زمینوں پر واپس جانے سے روکا گیا۔

بدھ 12-08-2026
in خاص خبریں, فلسطین
0
حقِ واپسی فلسطینیوں کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے، جدوجہد جاری رہے گی: مہاجرین
0
SHARES
0
VIEWS

مقبوضہ فلسطین – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) جب کبھی بھی فلسطین کے المیے کو امدادی اعداد و شمار یا خیموں کی تصاویر تک محدود کر دیا جاتا ہے تو اس مرکزی حقیقت کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ فلسطینی مہاجرین محض کسی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والا کوئی ہنگامی انسانی معاملہ نہیں ہیں بلکہ وہ ایک ایسے عوام ہیں جنہیں طاقت کے زور پر ان کے شہروں اور دیہاتوں سے جڑ سے اکھاڑا گیا، پھر کئی دہائیوں تک انہیں ان کے گھروں اور زمینوں پر واپس جانے سے روکا گیا۔ یہاں اصل مسئلہ جلاوطنی کے حالات کو بہتر بنانا نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور استعماری سبب کا خاتمہ کرنا ہے۔

جو شخص بھی غزہ، مغربی کنارے، لبنان، اردن یا شام کے کسی بھی کیمپ کا دورہ کرتا ہے، وہ وہاں محض آبادی کا کوئی ہجوم نہیں دیکھتا۔ وہ گلیوں، سکولوں اور انجمنوں کے ناموں میں فلسطین کا پورا نقشہ بسا ہوا دیکھتا ہے: صفوریہ، اجزم، المجدل، اللد، بئر السبع، عین حوض اور وہ تمام دیہات جنہیں قابض اسرائیل نے نقشے سے مٹانے کی طرح یادوں سے بھی مٹانے کی پوری کوشش کی۔ مہاجر کے سینے میں محفوظ یادداشت کوئی تجریدی تمنا نہیں ہے بلکہ ایک ایسی عوامی ملکیت کی سند ہے جو نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔

فلسطینی مہاجرین: نکبہ سے لے کر مسلسل جاری نقل مکانی تک

سنہ 1948ء کا سال کوئی بند باب نہیں تھا بلکہ جبری بے دخلی کے ایک مسلسل نظام کا آغاز تھا۔ نکبہ کے دوران لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے قصبوں اور دیہاتوں سے بے دخل کیا گیا، بہت سے دیہات تباہ کر دیے گئے یا ان کے باسیوں کو نکال باہر کیا گیا، جبکہ صیہونی تحریک اور پھر قابض ریاست نے زمینوں اور املاک پر قبضہ کر کے ان کے اصل مالکان کو واپسی سے محروم کر دیا۔ جو فلسطینی اپنے گھر میں پرسکون زندگی گزار رہا تھا، وہ اچانک مہاجر بنا دیا گیا جبکہ باہر سے آنے والے کو اسی جگہ بسنے کا امتحقاق دے دیا گیا۔

یہ تضاد اس پورے مسئلے کی اصل روح کو بے نقاب کرتا ہے۔ اسرائیل واپسی کے حق کو محض ایک انفرادی یا اجتماعی حق کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ اسے اس منصوبے کے لیے ایک براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے جو اصل باشندوں کی جگہ ایک بیرونی استعماری گروہ کو آباد کرنے کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نکبہ کو ایک دور ماضی کا تاریخی واقعہ بنا کر پیش کرنے اور مہاجرین کو ایک ایسا امدادی بوجھ ثابت کرنے پر بہ ضد ہے جسے وہیں آباد یا ضم کر دیا جائے جہاں وہ مقیم ہیں، نہ کہ انہیں ایسے حقداروں کے طور پر دیکھا جائے جن کے پاس اپنے نام، زمینیں، ریکارڈ اور ورثہ موجود ہے۔

اس کے بعد سنہ 1967ء کی نکسہ نے مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور مقبوضہ بیت المقدس سے جبری بے دخلی کی ایک نئی لہر کو جنم دیا، جبکہ جلاوطنی، شناختی کارڈ کی منسوخی، گھروں کی مسماری اور زمینوں پر قبضے کی پالیسیاں بدستور جاری رہیں۔ حالیہ برسوں میں غزہ کی پٹی پر جاری نسل کشی کی جنگ نے اجتماعی جبری نقل مکانی کو ایک بار پھر منظرِ عام کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے، جہاں بمباری کے سائے میں لوگوں کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے دھکیلا جا رہا ہے، محلے اور شہری انفراسٹرکچر تباہ کیے جا رہے ہیں اور پٹی سے باہر جبری انخلا کے منصوبوں کو ایک سیاسی آپشن کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس حقیقت کو نکبہ کی تاریخ سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ اگرچہ ہتھکنڈے بدل رہے ہیں لیکن مقصد اور منطق ایک ہی ہے اور وہ ہے زمین کو اس کے اصل باسیوں سے خالی کرنا۔

مہاجر کیمپ کوئی متبادل وطن نہیں

مہاجر کیمپوں کو جبری بے دخلی کے شکار افراد کے لیے ایک عارضی انتظام کے طور پر قائم کیا گیا تھا، لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایک مکمل سماجی اور سیاسی فضا کی شکل اختیار کر لیں۔ ان کیمپوں میں سکول، صحت کے مراکز، بازار اور روزمرہ کی زندگی رواں دواں ہے، لیکن ان کے ساتھ ساتھ یہاں شدید گنجائش کی کمی، غربت، قانونی بندشیں اور سکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال بھی موجود ہے۔ کیمپوں کے اندر معاشرہ تعمیر کرنے اور اپنی عزت و وقار کی حفاظت کرنے کی مہاجرین کی یہ صلاحیت ہرگز اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ کیمپ حیفا، یافا، بیسان یا رملہ کا کوئی متبادل بن چکے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کیمپوں میں بنیادی سہولیات کی بہتری ایک غیر متنازع ضرورت ہے، لیکن یہ بہتری کبھی بھی حقِ واپسی کا سیاسی متبادل نہیں بن سکتی۔ طبی، تعلیمی اور امدادی مدد لوگوں کو ظلم کے اثرات سے تو بچاتی ہے لیکن خود اس ظلم کا مداوا نہیں کرتی۔ ان دونوں راستوں کو آپس میں گڈمڈ کرنا دراصل اس شخص کے مفاد میں ہے جو حقِ واپسی کو کسی تحریکِ آزادی اور حقوق کے مقدمے کی بجائے محض بحران کے انتظام (کرائسز مینجمنٹ) کا ایک فائل بنانا چاہتا ہے۔

ایک ناقابلِ تسخیر قانونی حق جو کوئی سودے بازی کا کاغذ نہیں

حقِ واپسی بین الاقوامی قانون کے واضح اصولوں پر مبنی ہے: جن لوگوں کو ان کے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، انہیں وہاں واپسی سے محروم نہیں کیا جا سکتا، اور انہیں اپنی املاک واپس لینے یا منصفانہ معاوضہ حاصل کرنے کا پورا حق حاصل ہے، بشرطیکہ معاوضہ واپسی کا جبری متبادل نہ ہو۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی قرارداد 194 اس اصول کو پختہ کرتی ہے کہ فلسطینی مہاجرین کو کم سے کم وقت میں ان کے گھروں کو واپس لوٹایا جائے اور ان کی املاک اور معاوضے کے مسئلے کو حل کیا جائے۔

لیکن اس حق کی اہمیت محض تحریری دفعات تک محدود نہیں ہے۔ یہ حق اپنی اصل طاقت ان باسیوں سے حاصل کرتا ہے جنہوں نے کبھی اس سے دستبردار ہونے کا سوچا تک نہیں۔ وہ فلسطینی جو اپنے گھر کی پرانی چابی یا زمین کی بوسیدہ سند سنبھالے بیٹھا ہے، وہ کسی نئے امتیاز کا طلبگار نہیں ہے بلکہ وہ اس بات کی شدید مخالفت کر رہا ہے کہ جلاوطنی کے اس جرم کو وقت گزرنے کے ساتھ ایک جائز حقیقت کے طور پر قبول کر لیا جائے۔ حقوق کبھی اس لیے زائل نہیں ہوتے کہ قابض کا تسلط طویل ہو گیا ہے، اور نہ ہی زمینوں پر ناجائز بستیاں پھیل جانے سے جبری قبضہ قانونی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔

بعض سیاسی بیانات میں حقِ واپسی کو ایک ایسے روڑے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو امن معاہدے کی راہ میں حائل ہے، گویا اصل مسئلہ مظلوم کا حق ہے نہ کہ اسے زبردستی گھر سے نکالنے کا گھناؤنا جرم۔ یہ سوچ اس مساوات کو جان بوجھ کر الٹنے کے مترادف ہے۔ ایسا امن جو کسی مہاجر سے اس کے گاؤں، اس کی یادداشت اور اس کی املاک کو معاوضے کی کسی مبہم شکل یا جلاوطنی میں ہمیشہ کےقیام کے بدلے بیچ دینے کا تقاضا کرتا ہو، وہ کوئی منصفانہ امن نہیں بلکہ نسلی تطہیر اور جبری بے دخلی کے نتائج کو قانونی شکل دینے کی ناپاک سازش ہے۔

انروا کی خدمات اور سیاسی جنگ کے درمیان معرکہ

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) لاکھوں فلسطینی مہاجرین بالخصوص تعلیم، صحت اور امداد کے شعبوں میں ایک ایسا لازمی اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کر رہی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اسے مالی اور سیاسی طور پر نشانہ بنانے کا مقصد محض کسی بین الاقوامی ادارے کے بجٹ کو گھٹانا نہیں ہے، بلکہ اس بین الاقوامی گواہ کو ختم کرنا ہے جو فلسطینی مہاجرین کے اس مسئلے کے حل طلب ہونے کی زندہ علامت ہے جو اب تک حل نہیں ہو سکا۔

جب بار بار ’انروا‘ کو ختم کرنے یا مہاجر کی تعریف بدلنے کی بازگشت سنائی دیتی ہے تو اس کا عملی مطلب اس مسئلے کی سیاسی اور قانونی حیثیت کو پارہ پارہ کرنا ہوتا ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ’انروا ‘پی ایل او (تنظیم آزادی فلسطین) یا حقوق کے نفاذ کے لیے بین الاقوامی فریضے کا کوئی متبادل ہے، بلکہ یہ اس بات کا ایک ادارہ جاتی ثبوت ہے کہ فلسطینیوں کی ہجرت ایک ایسے زبردستی کے انخلا کا نتیجہ ہے جس کا ازالہ نہیں کیا گیا۔ اس کی مالی شہ رگ کاٹنا لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتا ہے اور ساتھ ہی قابض ریاست کو اس کی بیانیے جنگ میں فتح دلاتا ہے۔

انضمام اور واپسی کے درمیان: وقار میں کوئی تضاد نہیں

کچھ لوگ اس مسئلے کو ایک جھوٹے دو رخی انتخاب کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یا تو مہاجر اپنے میزبان ملک میں باعزت زندگی اور شہری حقوق حاصل کرے، یا پھر واپسی پر بہ ضد رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پناہ گاہوں میں بنیادی شہری اور انسانی حقوق کا مطالبہ حقِ واپسی سے متصادم نہیں ہے، بلکہ یہ اس وقت تک مہاجرین کے وقار کی حفاظت کرتا ہے جب تک وہ اپنے حقوق واپس حاصل نہیں کر لیتے ہیں۔ کسی انسان کو محض اس بات پر روزگار، علاج یا تعلیم سے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنے وطن سے دستبردار ہونے سے انکار کرتا ہے۔

اسی طرح بعض فلسطینیوں کو کسی ملک کی شہریت مل جانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کی جائیدادوں اور وطن سے ان کی وابستگی یا ان کے حقوق ختم ہو چکے ہیں۔ یہ معاملہ ہر معاشرے اور ہر خاندان کے الگ حالات سے جڑا ہوا ہے، لیکن اصول ہمیشہ اٹل رہنا چاہیے: کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ جبری وطن واپسی کی جگہ کسی اور ملک میں جبری آباد کاری مسلط کرے اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ مہاجرین کی معاشی مجبوریوں کو ان سے کوئی سیاسی سمجھوتہ کرانے کے لیے استعمال کیا جائے۔

میزبان ممالک اور عالمی برادری سے ہمارا مطالبہ مہاجرت کے اس کھیل کو لامتناعی طور پر طول دینا نہیں ہے، بلکہ مہاجرین کو امتیازی سلوک اور فاقہ کشی سے بچانا، جبری نقل مکانی کے نئے منصوبوں کو مسترد کرنا ، قابض کو اس کے مسلسل انخلا کے جرم پر کٹہرے میں کھڑا کرنا ہے۔ جو لوگ اصل المیے کو نظرانداز کر کے علاقائی استحکام کی باتیں کرتے ہیں، وہ درحقیقت اسی قائم شدہ ظلم کی بنیاد پر استحکام کے متلاشی ہیں۔

بیانیے کی جنگ نام سے شروع ہوتی ہے

مسئلے کو مٹانے کی کوششیں اکثر ایسی بظاہر غیر جانبدار زبان سے شروع ہوتی ہیں، بے گھر افراد، متاثرہ آبادی، آبادیاتی بحران، یا انسانی مسئلہ۔ یہ اصطلاحات شاید حقیقت کے کسی ایک پہلو کو بیان کرتی ہوں لیکن یہ اس وقت تک ناکافی ہیں جب تک وہ اس میں ملوث اصل مجرم اور اس کے بنیادی جرم کو پسِ پردہ دھکیل دیتی ہیں۔ فلسطینی مہاجر کوئی عام انسان نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسا فلسطینی ہے جسے اس کی زمین سے جبری نکالا گیا، اور قابض وہ فریق ہے جس نے اسے واپس آنے سے روکا اور اس کے وطن کو مسلسل غصب کیا۔

بیانیے کے تحفظ کا مطلب ماضی کو دہراتے رہنا نہیں ہے بلکہ اسے آج کے حالات کے ساتھ جوڑنا ہے۔ جب مغربی کنارے کے کیمپوں پر بمباری کی جاتی ہے، بیت المقدس کے گھر محفوظ نہیں رہتے، یا غزہ کے باسیوں کو آگ کے سائے میں نقل مکانی پر مجبور کیا جاتا ہے، تو نکبہ کوئی سالانہ برسی نہیں بلکہ ایک روزمرہ کا متحرک اور زندہ سچ بن جاتا ہے۔ جب مہاجرین کی نئی نسلیں جلوسوں، یونیورسٹیوں اور میڈیا کے پلیٹ فارمز پر اپنے آبائی دیہات کے نام بلند کرتی ہیں، تو وہ اس بات کا اعلان کرتی ہیں کہ مٹانے کی تمام تر سازشیں ناکام ہو چکی ہیں۔

عملی ذمہ داری ہر اس شخص پر عائد ہوتی ہے جو لکھتا ہے، پڑھاتا ہے یا تاریخ کو محفوظ کرتا ہے۔ دیہات کے نام یاد رکھنا، بزرگوں کی گواہیوں کو ریکارڈ کرنا، ملکیت کی سندوں کی حفاظت کرنا اور آنے والی نسلوں کو یہ سکھانا کہ واپسی کوئی نعرہ نہیں بلکہ ایک اٹل حق ہے، یہ سب درحقیقت جہادِ بقا کے مختلف روپ ہیں۔ وہ مسئلہ جسے قابض اپنے ملبے اور جلاوطنی کے برسوں ت دفن کرنا چاہتا ہے، اس وقت تک زندہ و جاوید رہے گا جب تک اس کے اصل وارث اپنی زمین کا راستہ جانتے ہیں اور پوری قوت سے اس کا مطالبہ کرتے ہیں۔

Tags: NakbapalestinePalestinian CausePalestinian RefugeesPalestinian RightsRight of Return
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.