رام اللہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطین میں قائم کمیشن برائے امور اسیران نے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض اسرائیل کے وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر کی طرف سے اسرائیلی جیلوں اور عقوبت خانوں میں فلسطینی اسیروں کی ملاقاتوں پر پابندی کو مزید بڑھانے کے فیصلے کے تناظر میں ایک واضح اور پرعزم مؤقف اختیار کرے۔
کمیشن کے سربراہ رائد ابو الحمص نے جمعہ کے روز اپنے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ بن گویر کا یہ فیصلہ اسیروں اور اسیر خواتین کو ان کے اہل خانہ کی ملاقاتوں پر پابندی کے ذریعے بیرونی دنیا سے کاٹنے کی پالیسی کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ انسانی و حقوقِ انسانی کے اداروں کو ان تک رسائی سے مسلسل محروم رکھنا بھی شامل ہے، جسے انہوں نے بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کے اداروں سے صریح اعراض قرار دیا۔
ابو الحمص نے مزید کہا کہ ان پالیسیوں کا تسلسل ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی اور دیگر حقوقِ انسانی و انسانی امور کی تنظیموں سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ ایک ایسا اعلانیہ مؤقف جاری کریں جو ان مکروہ اقدامات کی مذمت کرے، بین الاقوامی اداروں کے ساتھ قابض صہیونی حکام کے عدم تعاون اور ان کے کام میں ڈالی جانے والی رکاوٹوں کو بے نقاب کرے، اس کے ساتھ انہوں نے ایک ایسی رپورٹ جاری کرنے کی دعوت دی جو اسیروں کے خلاف ارتکاب کیے جانے والے مظالم اور خلاف ورزیوں کے حجم کی عکاسی کرتی ہو۔
انہوں نے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی اور بین الاقوامی و اقوام متحدہ کے اداروں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اسیروں سے ملاقات کرنے اور قابض صہیونی حکام کی منظوری کا انتظار کیے بغیر اپنا انسانی اور اخلاقی فریضہ سر انجام دینے کے اپنے حق کو چھیننے کے لیے عملی قدم اٹھائیں۔ اس امر کے لیے بھرپور کوشش کریں کہ قابض اسرائیل کی طرف سے اسیروں کے خلاف مسلط کردہ مسلط شدہ امرِ واقعے کی پالیسی کو توڑا جائے، جسے انہوں نے بیان کیا کہ بین الاقوامی روایات اور قوانین کی کھلی مخالفت کے ساتھ لگ بھگ گزشتہ تین سالوں سے مسلسل جاری ہے۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد سے اسیروں کی حالتِ زار میں ایک بے مثال تنزلی واقع ہوئی ہے۔ یہ واضح کیا کہ قابض صہیونی حکام نے ان کے حقوق اور ان کا ذاتی سامان ضبط کر لیا ہے۔ انہیں قید و بند کی انتہائی ظالمانہ اور سخت ترین حالتوں میں دھکیل دیا ہے، اس کے علاوہ وحشیانہ تشدد اور تذلیل کے وہ اقدامات بھی شامل ہیں جنہوں نے جیلوں کی تاریکیوں میں ان کے دکھوں اور مصائب کو دوچار کر دیا ہے۔