بیت لحم -(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم کے جنوب مشرق میں واقع قصبہ ابو نجیم پر یہودی آباد کاروں کے ایک حملے کے نتیجے میں جمعہ کی شام طبی عملے کے ارکان سمیت متعدد شہری زخمی ہو گئے، جس کے دوران فائرنگ کی گئی اور ایمبولینس گاڑیوں اور ریسکیو ٹیموں کو نشانہ بنایا گیا۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ یہودی آباد کاروں نے قصبے پر دھاوا بول دیا اور شہریوں کی گاڑیوں کی طرف سیدھی گولیاں چلائیں، جس کے نتیجے میں ایک شہری گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ آباد کاروں نے اس ایمبولینس پر بھی حملہ کر دیا جو زخمی شخص کو طبی امداد دینے کے راستے میں تھی، اس کے شیشے توڑ ڈالے اور اس کے عملے کے ارکان پر مرچوں کا سپرے کیا، جس کی وجہ سے دو ایمبولینس افسران دم گھٹنے سے بے ہوش ہوگئے اور گاڑی مکمل طور پر خراب ہو گئی۔
ذرائع نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ آباد کاروں نے قصبے کی مرکزی سڑک کو بند کر دیا، شہری دفاع کے عملے پر بھی ان کے فرائض کی انجام دہی کے دوران حملہ کیا۔
قصبہ ابو نجیم کو پچھلے کچھ عرصے کے دوران یہودی آباد کاروں کے حملوں میں مسلسل اضافے کا سامنا ہے، جن میں شہریوں کے گھروں پر حملے، ان کی گاڑیوں پر فائرنگ، اور اہل علاقہ اور ان کی املاک پر تشدد کرنا شامل ہے۔
یہ حملے مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی پرتشدد کارروائیوں میں اضافے کے پس منظر میں پیش آ رہے ہیں، جہاں کمیشن برائے مزاحمت دیوار و بستی نے گذشتہ ماہ جولائی کے دوران قابض صہیونی فوج اور یہودی آباد کاروں کی طرف سے 2256 ایسے حملوں کے ارتکاب کی توثیق کی ہے جنہوں نے مختلف علاقوں میں فلسطینیوں اور ان کی املاک کو نشانہ بنایا۔